بھارت و پاکستان جنگ بندی معاہدہ پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر کئے پوسٹ میں مودی حکومت سے متعدد سوال کئے اور کہا کہ مودی کی صدارت میں آل پارٹی اجلاس بلایا جانا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے پہلگام دہشت گردانہ حملے، "آپریشن سندور" اور بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر تفصیلی بحث کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل جماعتی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔
کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر کئے پوسٹ میں مرکزی حکومت سے متعدد سوال کئے۔ انہوں کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی صدارت میں آل پارٹی اجلاس بلایا جانا چاہیئے۔ پہلگام واقعے، آپریشن سندور، جنگ بندی اور جنگ بندی پر امریکی بیان وغیرہ پر بحث کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جانا چاہیئے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات غیر جانبدار مقام پر ہونے چاہئیں۔ اس سے کئی سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ہم نے کسی تیسرے کو ثالث کے طور پر قبول کریں گے، کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی راستے دوبارہ کھلیں گے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 1981ء میں بھارت کو 5.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان کے درمیان کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔