بھارت میں تباہی مچانے والا پاکستان کا فتح میزائل
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
فتح میزائل نے بھارت میں تباہی مچا دی، اس تباہی میں متعدد ہوائی اڈے، میزائل سسٹمز، جن میں براہموس سپر سانک کے ذخیرے بھی شامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق فتح میزائل سسٹم 100، 120 اور 400 کلومیٹر تک فتح، فتح اول اور فتح دوم کی صورت پاکستان آرمی کے پاس موجود ہے۔
یہ میزائل انرشیل نیویگیشن سسٹم اور گلوبل سیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کے تحت کام کرتا ہے اور دشمن کے علاقے تک کسی بھی بلیسٹک میزائل دفاعی نظام کو دھوکا دیتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ اپنے اہداف کو تیر بہ ہدف نشانہ بنانے کی بہترین صلاحیتوں کا حامل ہے۔
میزائل لانچنگ ٹرک کے ذریعے اپنے مختص مقام تک لے جایا جاتا ہے اور 2، 4، اور 8 لانچنگ ٹیوبز سے فائر کیے جاتے ہیں۔
فتح میزائل سسٹم کو مخصوص طور پر دشمن کی فوج کی نقل و حرکت روکنے، توپ خانے کو ختم کرنے یا انتہائی اہمیت کے حامل تکنیکی اہداف کو نیست و نابود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان فتح میزائل
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔