طیاروں کی عدم دستیابی ودیگرٹیکنیکل وجوہات ،متعدد پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
سعید احمد سعید : طیاروں کی عدم دستیابی اور دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پر اندرون و بیرون ملک کی متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بیرون ملک جانے والی 13 جبکہ بیرون ملک سے لاہور آنے والی 14 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں، جس سے سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے۔منسوخ ہونے والی پروازوں میں جدہ سے لاہور آنے والی سعودی ایئر کی پرواز ایس وی 738 اور لاہور سے جدہ جانے والی پرواز ایس وی 739 شامل ہیں۔ اسی طرح کویت سے لاہور آنے والی پرواز جے نائن 501 اور لاہور سے کویت جانے والی الجزیرا ایئر کی پرواز جے نائن 502، کولمبو سے آنے والی سری لنکن ایئر کی پرواز یو ایل 153 اور واپس کولمبو جانے والی پرواز یو ایل 154 بھی منسوخ کی گئی ہیں۔
مختلف تھانوں میں انچارج انویسٹی گیشنز کے تقرر و تبادلے
فلائی جناح کی لاہور سے ریاض جانے والی پرواز نائن پی 580، جدہ جانے والی پرواز نائن پی 586، لاہور سے کراچی جانے والی پرواز نائن پی 847، اور شارجہ جانے والی پرواز نائن پی 502 بھی متاثرہ پروازوں میں شامل ہیں۔
سعودی ایئر کی ایک اور پرواز ایس وی 733 کے ساتھ ساتھ فلائی جناح کی جدہ جانے والی پرواز ایس وی 3735 بھی منسوخ کر دی گئی۔ اس کے علاوہ لاہور سے کوالالمپور جانے والی پرواز او ڈی 132 اور بنکاک جانے والی پرواز ٹی جی 346 بھی روانگی سے قبل منسوخ کر دی گئیں۔
ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی قیادت میں تجاوزات کیخلاف وسیع آپریشن
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں یا ری فنڈ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور مسافروں سے گزارش کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل ایئرلائن سے اپنے سفر کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور جانے والی پرواز نائن پی پرواز ایس آنے والی لاہور سے ایئر کی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔