پاکستان فضائیہ کس طرح بھارت سے بہتر ہے؟وہ کونسی صلاحیتیں ہیں جو بھارت کے پاس نہیں، معروف بھارتی صحافی نے انتہائی تفصیل سے سمجھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوی ساون نے پاک بھارت کشیدگی پر تجزیہ دیتے ہوئے پاکستان کی صلاحیت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور، انفارمیشن وار فیئر ، جو جنگ کا اہم حصہ ہے، یہ جنگ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کو چالاقی سے انفارمیشن کے ساتھ ملا کر لڑی جاتی ہے جو پاکستان نے بہترین انداز میں کیا۔ پاکستان پاک فضائیہ کے تیسرے نمبر پر موجود افسر ایئر وائس مارشل اورنگزیب کو سامنے لائے جس نے انٹر نیشنل میڈیا کو بریفنگ دی ۔ انہوں نے بہت آرام سے میڈ یا کو وہ نقشہ واضح کیا جس کے مطابق انہوں نے تمام بھارتی جہازوں کو مار گرانے کے الیکٹرانک پرنٹنگ پیش کیے۔انہوں نے بتا یا کہ پاکستان ایئر فورس نے وار فیئر کا تمام نقشہ تبدیل کردیا ہےاور یہ ڈاگ فائٹ نہیں تھی یہ ملٹی ڈو مین آپریشن تھااور کیسے پاکستان نے چھ اورسات مئی کی رات کو کیسے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے۔جب آپ میڈیا کو اتنی زیادہ انفارمیشن دیتے ہیں تو آپ بنیادی طور پر میڈیا کو اپنے ساتھ الائن کرتے ہیں۔بھارتی سائیڈ نے ایسی بریفنگ نہیں دی تھی تو اگلے دن تمام میڈیا پر پاک فضائیہ کے موقف کی بات ہو رہی تھی۔پاکستانی ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے اس طرح انفارمیشن وار فئیر اپنا مقصد حاصل کرلیا۔
بھارت کے کتنے جہاز مار گرائے گئے اور کتنےاہداف کو انگیج کیا گیا۔۔۔؟ ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا
بھارتی تجزیہ کار نے استفسار کیا سوال ہے کہ یہ ملٹی ڈومین آپریشن آیا کہاں سے ۔ یہ تب ہوا جب پانچ اگست 2019 کو مودی حکومت نے 370اور 35اے کو ختم کر کے کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے پاکستان اور چین بہت زیادہ قریب آگئے۔ اس کے بعد سے چین نے کہنا شروع کیا کہ وہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے اور اس کی سالمیت کا دفا ع کرے گا یعنی پاک لبریشن آرمی بھارت کے خلاف افواج پاکستان کی حمایت کرے گی۔ملٹی ڈومین آپریشن میں چھ صلاحیتں بڑھا کر وار فئیر کا نقشہ تبدیل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا پہلی صلاحیت فائٹرز جیٹ ہیں ،اس وقت پاکستان کے پاس جے 10سی اور جے ایف 17 تھنڈر ہیں ۔ دوسری صلا حیت bvr میزائل ہیں، ہم چین کے پی ایل15میزائل کے بارے میں سن چکے ہیں۔تیسری صلاحیت سیٹلا ئیٹ ہے چین کے پی ای یو سسٹم میں 44سیٹلائیٹس ہیں جو آج کے دور میں نمبر ایک سیٹلائیٹ کنسٹالیشن ہے۔ اس کا مطلب کے آپریشن کے دوران پاکستان جنگی میدان پر مکمل طور پر نظر رکھ سکتا ہےاور اپنے میزائل ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ چوتھی صلاحیت ایئر بورن ایرلی وارننگ اینڈ کنٹرول فائیٹرز۔ یہ سسٹم ٹارگٹ کو ٹریک کرنے اس کی پہچاننے کے لیے ہوتا ہےپاکستان کے پاس نو ایسے جہاز ہیں۔پانچویں نمبر پر الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت ہے جو پاکستان کے پاس بھارت سے بہت بہتر ہے اور اس کا ثبوت 2019میں بالاکوٹ حملے کے دوران بھی ملا تھا۔اس جنگ میں دشمن کی کمیو نیکیشن کو جام کرنےاور دشمن کی بات چیت سننے کی صلاحیت ہوتی ہے۔پاکستان نے بھارتی پائلٹس کی گفتگو بھی میڈیا کو سنوائی۔ چھٹی صلاحیت ڈیٹا لنکنگ ہےجس کا مطلب کہ مذکورہ بالا تما صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے تا کہ ہر کسی کو پتہ ہو کہ دوسرا کیا کر رہا ہے اور ہر کسی کے سامنے جنگی میدان کی پوری تصویر ہو۔جب یہ تمام صلاحیتیں ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو پائلٹ کے لیے دشمن سے پہلے اس پر حملہ کرنا آسان ہو جاتا ہے ، اس لیے اسے ملٹی ڈومین آپریشن کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان چھ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ پائلٹس کی ٹریننگ بہت اہمیت رکھتی ہے ، پاکستان کے پاس جے 10سی اور پی ایل 15 مارچ 2020میں آئے تھے تب سے پاکستان فضائیہ حقیقی جنگی صورتحال کی چینی فضائیہ کےساتھ اس ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشقیں کر رہی ہے۔
بھارت کی جانب سے جھوٹے الزامات کا سلسلہ جاری
Pakistani Fazaia kis trah Bharat se behtar hai? Woh konsi salahiatei hain jo Bharti fazaia k paas nahi? Maroof Bharti sahafi ne Intehai tafsil se samjha dia
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کے پاس میڈیا کو انہوں نے بھارت کے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔