جنگ کوئی بالی ووڈ کی فلم یا رومانوی تصور نہیں؛ سابق بھارتی آرمی چیف ملکی میڈیا پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پاک فضائیہ کی شاندار جوابی کارروائی نے بھارتی فوج کے دانت کھٹے کردیئے تھے جس پر وہاں کا میڈیا بھی بلبلا اُٹھا اور اپنی عوام کو اکسانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔
بھارتی فوج کے سابق آرمی چیف جنرل منوج نراونے نے اس صورت حال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے جنگ کی حمایت کرنے پر اپنے ملکی میڈیا پر برس پڑے۔
سابق بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ جنگ کوئی رومانوی تصور نہیں بلکہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے بالی ووڈ فلم کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے جنگ سب سے آخری آپشن ہونا چاہیے جب کہ دیگر تمام آپشنز ناکام ہوگئے ہوں۔
جنرل منوج نروانے کے بقول یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بھی جنگ بندی کو ترجیح دی۔ جنگ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر خوشی منائی جائے۔
سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نراونے نے واضح کیا کہ یہ مکمل جنگ بندی نہیں بلکہ صرف فوجی کارروائیوں کا عارضی خاتمہ ہیں۔
جنرل منوج نروانے نے مزید کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں حالات کیسے بدلتے ہیں۔
انھوں نے جنگ کے ہولناک نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی لاگت اور اس کے ہولناک نتائج پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ دانشمند انسان وہی ہوتا ہے جو وقت پر فیصلہ کرے تاکہ نقصان ناقابل تلافی نہ ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔