عامر خان کی گرل فرینڈ گوری سپراٹ پاپارازی پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار عامر خان کی گرل فرینڈ گوری سپراٹ نے میڈیا اور پاپارازی کے مسلسل پیچھا کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو میں انہیں کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ارے مجھے اکیلا چھوڑ دو نا، میں بس واک پر جا رہی ہوں‘‘۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گوری سپراٹ شہر میں چہل قدمی کےلیے نکلی تھیں اور فوٹوگرافرز نے ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔ عامر خان کے ساتھ اپنے تعلق کے اعلان کے بعد سے گوری مسلسل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، حالانکہ عامر خان نے شروع ہی میں واضح کر دیا تھا کہ گوری کو نہ تو شہرت کی خواہش ہے اور نہ ہی میڈیا کی توجہ پسند ہے۔
A post common by Bhola Ramjani (@bhola_ramjani)
اس سے قبل عامر خان اور گوری کو ایئرپورٹ پر دیکھا گیا تھا، جہاں پاپارازی نے دونوں کے درمیان رومانوی لمحات کی تصاویر لی تھیں جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھیں۔ عامر خان نے 60 سال کی عمر میں اپنے اس نئے رشتے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایک پوڈکاسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے عامر خان نے بتایا کہ گوری کے ان کی زندگی میں آنے کے بعد ہی انہوں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ بدلا۔ اداکار نے کہا ’’گوری مجھے اس وقت ملی جب میں سمجھ بیٹھا تھا کہ اب میری عمر گزر چکی ہے۔ میں نے تھراپی شروع کی تھی اور وہاں سے سیکھا کہ پہلے خود سے محبت کرنی چاہیے، تبھی آپ دوسروں کو سچ میں محبت دے سکتے ہیں۔‘‘
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔