پرویز الٰہی نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائرکردی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پرویز الٰہی نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائرکردی WhatsAppFacebookTwitter 0 14 May, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نےمنی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائر کردی۔
اسپیشل سینٹرل کورٹ نے پرویزالٰہی کی درخواست پرسماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ پرویزالٰہی،مونس الٰہی اورمحمد جبران خان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا،پرویزالٰہی سمیت دیگر کےخلاف کرپشن کے پیسے کو منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیےگئے،درخواست گزارسمیت دیگر کےخلاف الزامات محض مفروضوں پرمبنی ہیں۔
وکیل نےبتایا کہ درخواست گزارکو ان جھوٹےالزامات کی بنیاد پرگرفتارکیا گیا،پراسیکیوشن نےغیرمصدقہ دستاویزات پرانحصارکیا ہےلہذا عدالت چوہدری پرویزالٰہی کو انصاف کےتقاضوں کے تحت بری کرے۔عدالت نےفریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹھائیس مئی کو جواب طلب کر لیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراچھے اور برے وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: ترک صدر اچھے اور برے وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: ترک صدر پاکستان کو آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط موصول ہوگئی اسٹیشن کمانڈر بریگیڈئر عدنان کی شہیدملک محبوب کے گھر آمد، فاتحہ خوانی پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ بارڈر پر قیدیوں کا تبادلہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کو اس کی دہلیز کے اندر گھس کر مارا ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ، پاکستانی سفیرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: منی لانڈرنگ کے کی درخواست
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔