7 بھارتی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنایا، ہمارا جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرقی محاذ سے بلا اشتعال جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا، دشمن غرور میں لپٹا آیا اور ذلت کے ساتھ واپس لوٹا۔ پاکستان نے جنگ جیت لی، اب ہم امن جیتنے کے خواہاں ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں، وہ بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کرتے تو مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے۔ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی اعلان جنگ کے مترادف ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر جلد ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا ہماری خارجہ پالیسی بانی پاکستان کے وژن پر مبنی ہے جس کی بنیاد امن، باہمی احترام اور تعاون ہے۔ ہم مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس اسی فورم پر میں نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ یہ الفاظ اس سال مئی میں اس وقت سچ ثابت ہوئے جب مشرقی محاذ سے ہم پر بلااشتعال جارحیت کی گئی۔ دشمن غرور میں لپٹا آیا اور ذلت کے ساتھ واپس لوٹا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ہماری پیشکش کو مسترد کرکے انسانی المیے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے ہمارے شہروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا بنیادی حق استعمال کیا۔ ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کو مکمل طور پر کنٹرول کرے، خواجہ آصف
وزیراعظم نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہینوں نے فضاؤں میں دشمن کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے 7 بھارتی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا۔ جارحیت کرنے والوں کو ہمارا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس فتح کا سہرا ہمارے ہر افسر، جوان اور شہدا کے ورثا کے سر ہے۔ ان کی عظمت امر ہے، ہمارے شہدا کی ماؤں کا حوصلہ ہماری رہنمائی کرتا ہے، ان کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہر پاکستانی اس صورتحال میں ایک مضبوط دیوار ’بنیان مرصوص‘ بن کر کھڑا رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
7 طیارے اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی بھارت وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 7 طیارے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی بھارت وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ شہباز شریف فیصلہ کن نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔