Juraat:
2026-06-02@23:20:38 GMT

تھانہ گلبرگ کی حدود، ماوا گٹکے کی منڈی میں تبدیل

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

تھانہ گلبرگ کی حدود، ماوا گٹکے کی منڈی میں تبدیل

شاکر عرف راجو نے پورے علاقے کا ٹھیکہ لے لیا دھڑلے سے ماوا گٹکا کی فروخت
20سے زائد پان کے کیبن میں فروخت جاری، متعلقہ پولیس خاموش تماشائی بن گئی

کراچی پولیس شہر بھر کے تمام اضلاع میں ماوا گٹکا کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل کا علاقہ تھانہ گلبرگ کی حدود ماوا گٹکا کی منڈی میں تبدیل۔ کریم آباد اسٹاپ سے ریلوے پھاٹک تک موسی کالونی کے تمام پان کے کیبن پر شاکر عرف راجو کے ماوا گٹکے کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے ، اس کے علاوہ علاقے میں تمام غیر قانونی کام بھی بآسانی کیے جا رہے ہیں جن میں جوا سٹہ منشیات کی فروخت اور دیگر جرائم شامل ہیں ۔شاکر عرف راجو متعلقہ پولیس کو بھاری نذرانہ ادا کرتا ہے جس کے باعث پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تھانہ گلبرگ کی حدود میں شاکر عرف راجو کے تقریبا 20سے زائد پان کے کیبن ہیں جہاں ماوا گٹکا کی فروخت صبح شام جاری رہتی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: شاکر عرف راجو ماوا گٹکا کی فروخت

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا