تھانہ گلبرگ کی حدود، ماوا گٹکے کی منڈی میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
شاکر عرف راجو نے پورے علاقے کا ٹھیکہ لے لیا دھڑلے سے ماوا گٹکا کی فروخت
20سے زائد پان کے کیبن میں فروخت جاری، متعلقہ پولیس خاموش تماشائی بن گئی
کراچی پولیس شہر بھر کے تمام اضلاع میں ماوا گٹکا کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل کا علاقہ تھانہ گلبرگ کی حدود ماوا گٹکا کی منڈی میں تبدیل۔ کریم آباد اسٹاپ سے ریلوے پھاٹک تک موسی کالونی کے تمام پان کے کیبن پر شاکر عرف راجو کے ماوا گٹکے کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے ، اس کے علاوہ علاقے میں تمام غیر قانونی کام بھی بآسانی کیے جا رہے ہیں جن میں جوا سٹہ منشیات کی فروخت اور دیگر جرائم شامل ہیں ۔شاکر عرف راجو متعلقہ پولیس کو بھاری نذرانہ ادا کرتا ہے جس کے باعث پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تھانہ گلبرگ کی حدود میں شاکر عرف راجو کے تقریبا 20سے زائد پان کے کیبن ہیں جہاں ماوا گٹکا کی فروخت صبح شام جاری رہتی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شاکر عرف راجو ماوا گٹکا کی فروخت
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔