مریخ پر سیال پانی کی دریافت میں اہم ترین پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سائنسدانوں نے مریخ پر پانی کی دریافت کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے، انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر سرخ سیارے کی سطح سے چند کلومیٹر نیچے سیال پانی کا ذخیرہ موجود ہوسکتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے انسائیٹ لینڈر کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے چینی سائنسدانوں کی سرپراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے مریخ میں زلزلے کی لہروں اور سیارچے ٹکرانے سے مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا، یہ ڈیٹا 2018 سے 2022 کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔ تحقیق میں مریخ کے ایک ایسے پراسرار خطے کا انکشاف ہوا جہاں ممکنہ طور سیال پانی موجود ہوسکتا ہے، درحقیقت یہ سابقہ اندازوں سے سطح سے زیادہ قریب ہوسکتا ہے۔ اگر مریخ کی سطح سے 5.
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ پانی کی اس تہہ کی موٹائی 780 میٹر ہوسکتی ہے۔ جرنل نیشنل سائنس ریویو میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مریخ کی بالائی سطح کے نیچے موجود سیال پانی کی موجودگی کے اولین شواہد ہیں، جس سے وہاں پانی کے بہاؤ اور قابل رہائش ماحول کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ناسا کا یہ لینڈر مریخ پر 2018 میں پہنچا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سیارے کی سطح پر گھومنا نہیں تھا بلکہ سطح کے نیچے کی سرگرمیوں کو سننا تھا، 4 سال تک یہ حساس آلات کو استعمال کرکے سطح کے نیچے کی سرگرمیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتا رہا۔
جس طرح ڈاکٹر الٹرا ساؤنڈ استعمال کرکے انسانی جسم کے اندر اسکین کرتے ہیں، اسی طرح سائنسدانوں کی جانب سے مریخ کی سطح کے نیچے موجود تہوں کی تفصیلات زلزلے کی لہروں کے ذریعے اکٹھی کی گئیں۔ 2022 میں انسائیٹ لینڈر کی زندگی ختم ہوگئی تھی اور 4 سال کے دوران اس نے ایک ہزار سے زائد زلزلے کے ایونٹس کو ریکارڈ کیا گیا جس سے بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا ہوااگرچہ موجودہ دریافت سائنسی لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہے مگر پھر بھی یہ پانی سطح سے بہت زیادہ نیچے موجود ہے یعنی موجودہ ڈرلنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ اس تک رسائی بہت مشکل ہے۔
مستقبل قریب میں مریخ پر بھیجے جانے والے مشنز میں اسے استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا، محققین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے یہ تخمینے اس خطے کے ڈیٹا پر لگائے ہیں تو مستقبل کے مشنز میں زیادہ بہتر آلات کو استعمال کرکے نتائج کی تصدیق کرنا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سطح کے نیچے نیچے موجود سیال پانی پانی کی کی سطح
پڑھیں:
20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں 20 سے 30 سال کے درمیان کی نوجوان خواتین میں ‘ٹائپ 2 ذیابیطس’ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے 2011 سے 2024 تک کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی وبا (کورونا) کے بعد موٹاپے کی شرح میں ہونے والا اضافہ ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ایک موذی مرض ہے جو دل کے دورے اور فالج جیسے شدید نوعیت کے طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ‘ذیابیطس یو کے’ نامی خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ جب یہ بیماری کم عمری میں لاحق ہوتی ہے تو اس کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوتا ہے، جس سے انسانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچنے اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیتادارے کا کہنا ہے کہ طویل المدتی اعصابی و جسمانی نقصان سے بچنے کے لیے خطرے کی زد میں موجود افراد کی وقت پر تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کو متوازن غذا اور وزن کنٹرول میں رکھ کر بغیر دواؤں کے بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والے جدید انجیکشنز اور ادویات (GLP-1) بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد ذیابیطس کے مریض ہیں جن میں سے 90 فیصد ‘ٹائپ 2’ کے شکار ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتی ہے اور نئے کیسز میں بڑا تناسب انہی کا ہے، تاہم اس وقت 30 سال سے کم عمر کے 12 ہزار افراد بھی اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔
بیماری کی اہم علاماتاس بیماری کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ کا احساس ہونا، معمول سے زیادہ پیشاب آنا اور مسلسل پیاس لگنا شامل ہیں۔
نوجوانوں اور خصوصاً خواتین میں تیز رفتار اضافہامپیریل کالج کے محققین نے انگلش نیشنل ذیابیطس آڈٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد میں اس بیماری کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن 40 سال سے کم عمر افراد میں یہ گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں دیکھا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں ‘باڈی ماس انڈیکس’ (BMI) کی شرح میں بڑی عمر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ اس بیماری کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ این ایچ ایس کے الگ ڈیٹا کے مطابق، انگلینڈ میں وبا کے بعد سے ہر 3 میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے، اور 2019 سے 2025 کے درمیان 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کے کیسز 16 فیصد جبکہ 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں تقریباً 20 فیصد بڑھے ہیں۔
ماہرین کی تشویشتحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں کم عمری ہی سے شدید موٹاپے کا رجحان انہیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی طرف دھکیل رہا ہے اور مریضوں کی اوسط عمر کو نیچے لا رہا ہے۔ کم عمری میں ذیابیطس کے بھیانک نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔
ڈاکٹر شیوانی کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماری زیادہ تر اقلیتی نسلی گروہوں میں پھیل رہی ہے، لیکن نئے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گندمی اور سفید فام آبادی بھی اس کی زد میں آ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام صحت کا ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور مزید تحقیقات‘ذیابیطس یو کے’ نے زور دیا ہے کہ دورانِ حمل ‘جسٹیشنل ذیابیطس’ کا شکار ہونے والی ماؤں کی پیدائش کے بعد بہتر دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ ان میں آگے چل کر ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم اس حوالے حتمی شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذیابیطس ٹائپ 2