Daily Ausaf:
2026-06-02@23:49:01 GMT

مریخ پر سیال پانی کی دریافت میں اہم ترین پیشرفت

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

سائنسدانوں نے مریخ پر پانی کی دریافت کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے، انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر سرخ سیارے کی سطح سے چند کلومیٹر نیچے سیال پانی کا ذخیرہ موجود ہوسکتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے انسائیٹ لینڈر کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے چینی سائنسدانوں کی سرپراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے مریخ میں زلزلے کی لہروں اور سیارچے ٹکرانے سے مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا، یہ ڈیٹا 2018 سے 2022 کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔ تحقیق میں مریخ کے ایک ایسے پراسرار خطے کا انکشاف ہوا جہاں ممکنہ طور سیال پانی موجود ہوسکتا ہے، درحقیقت یہ سابقہ اندازوں سے سطح سے زیادہ قریب ہوسکتا ہے۔ اگر مریخ کی سطح سے 5.

4 سے 8 کلومیٹر نیچے موجود پانی کی تہہ کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ بہت بڑی پیشرفت ثابت ہوگی،

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ پانی کی اس تہہ کی موٹائی 780 میٹر ہوسکتی ہے۔ جرنل نیشنل سائنس ریویو میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مریخ کی بالائی سطح کے نیچے موجود سیال پانی کی موجودگی کے اولین شواہد ہیں، جس سے وہاں پانی کے بہاؤ اور قابل رہائش ماحول کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ناسا کا یہ لینڈر مریخ پر 2018 میں پہنچا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سیارے کی سطح پر گھومنا نہیں تھا بلکہ سطح کے نیچے کی سرگرمیوں کو سننا تھا، 4 سال تک یہ حساس آلات کو استعمال کرکے سطح کے نیچے کی سرگرمیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتا رہا۔

جس طرح ڈاکٹر الٹرا ساؤنڈ استعمال کرکے انسانی جسم کے اندر اسکین کرتے ہیں، اسی طرح سائنسدانوں کی جانب سے مریخ کی سطح کے نیچے موجود تہوں کی تفصیلات زلزلے کی لہروں کے ذریعے اکٹھی کی گئیں۔ 2022 میں انسائیٹ لینڈر کی زندگی ختم ہوگئی تھی اور 4 سال کے دوران اس نے ایک ہزار سے زائد زلزلے کے ایونٹس کو ریکارڈ کیا گیا جس سے بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا ہوااگرچہ موجودہ دریافت سائنسی لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہے مگر پھر بھی یہ پانی سطح سے بہت زیادہ نیچے موجود ہے یعنی موجودہ ڈرلنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ اس تک رسائی بہت مشکل ہے۔

مستقبل قریب میں مریخ پر بھیجے جانے والے مشنز میں اسے استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا، محققین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے یہ تخمینے اس خطے کے ڈیٹا پر لگائے ہیں تو مستقبل کے مشنز میں زیادہ بہتر آلات کو استعمال کرکے نتائج کی تصدیق کرنا ہوگی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سطح کے نیچے نیچے موجود سیال پانی پانی کی کی سطح

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے