بھارت خوف میں مبتلا،سیزفائر کے باوجود ایئرپورٹ بند،444 پروازیں منسوخ ، جنگی طیارے بھی ہٹادیئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سرینگر(اوصاف نیوز) بھارتی ایئرپورٹ مسلسل بند ، طیارے ہٹا دیئے ، خوف یا خفیہ منصوبہ بندی ، سیز فائر کے باوجود 24 بھارتی ایئرپورٹ مسلسل بند ہیں جبکہ 444 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں اور طیارے بھی ہٹا دیئے گئے ہیں۔
امرتسر ، سری نگر ، جموں ، لداخ ، دھرم شالا ، شملہ ، آدم پور اور چندی گڑھ کی آج بھی تمام پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ کاشان گڑھ ، راجکوٹ ، ہیر اسر ائیر پورٹ کا فلائٹ آپریشن آٹھویں روز بھی معطل رہی۔ 24 ایئرپورٹ کا فلائٹ آپریشن آج بھی غیر فعال ، تمام طیارے بھی ہٹا لیے گئے ہیں۔
امرتسر ایئرپورٹ سے روزانہ 123 پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں تمام منسوخ ، سیسنا طیارہ موجود ہے۔ 7 دن سے بند سری نگر ائیر پورٹ سے روزانہ کی 65 پروازیں منسوخ ہوئیں ، کوئی طیارہ بھی موجود نہیں ہے۔
لداخ کے لیح کوشک ائیر پورٹ کی آج بھی تمام 30 پروازیں منسوخ ہیں ، فلائٹ شیڈول کے مطابق جموں ایئر پورٹ کی 30 پروازیں منسوخ ہیں اور تمام طیارے ہٹا لئے گئے ہیں۔
دھرم شالہ کی 14 پروازیں منسوخ ، پنجاب سول ایوی ایشن کا ایک گلوبل رینجر جہاز موجود ہے ، چندی گڑھ کی آج کی تمام 70 پروازیں منسوخ ، گراؤنڈ پر 4 چھوٹے جہاز کھڑے ہیں۔ جودھ پور ایئرپورٹ کی 20 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں ، 505 جیٹ رینجر ایکس موجود ہے۔ راجکوٹ ہیراسر ایئرپورٹ 20 پروازیں آج بھی منسوخ ، 7 دن سے کسی ایئر لائن کا کوئی جہاز نہیں اتر سکا ہے۔
گجرات کے بھوج ائیر پورٹ سے بھی 10 پروازیں منسوخ ہیں، کوئی جہاز بھی نہیں آ سکا ، کلو بونٹر 6 پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں، تمام منسوخ، ایئرپورٹ خالی ہے۔ جالندھر کے آدم پور ایئرپورٹ کی 2 پروازیں منسوخ ہیں کوئی طیارہ موجود نہیں ہے۔شملہ کی یومیہ 4 پروازیں آج بھی منسوخ ، ایئرپورٹ پر 6 دن سے 1 طیارہ اور 1 ہیلی کاپٹر موجود ہے ، لدھیانہ ائیر پورٹ کی آج کی 2 پروازیں منسوخ ہیں ، اب کوئی طیارہ موجود نہیں ہے۔
بٹھنڈا ائیر پورٹ کی 4 سہارن پور کی پروازیں منسوخ اور وہاں 4 طیارے موجود ہیں۔ بیکانیر نال کی 4 پروازیں بند ، 7 دن سے انڈین ائیر فورس کا لاک ہیڈ میریٹن سی 130 جے 30 ہر کولیس طیارہ موجود ہے۔
کشن گڑھ کی 10 پروازیں منسوخ ، ایویانا ایوی ایشن اکیڈمی کے 6 پائپر آرچر طیارے 7 دن سے موجود ہیں۔ سکھر اور میرپور خاص کے قریبی بھارت کے جیسل میر ائیر پورٹ پر بھی کوئی طیارہ موجود نہیں ہے۔
ہریانہ کے مہاراجہ اگرسین ایئرپورٹ سے آج کی 4 پروازیں منسوخ، کوئی طیارہ موجود نہیں، بٹھنڈا کی 4 پروازیں منسوخ، 7 دن سے فلائی بگ ایئر کا ایک وکنگ طیارہ موجود ہے۔
کاندھلا کی یومیہ کی 2 پروازیں آج بھی منسوخ ، سپائس جیٹ ایئر کے طیارے کے گوا منتقل کردیا گیا۔ جام نگر کی 2 ، کیشود کی 4 پروازیں منسوخ ، پور بندر ، راج کوٹ ائیر پورٹ پر کوئی طیارہ موجود نہیں ہے۔
بنیان مرصوص، فتح 1 ، 2 میزائل سسٹم سے پٹھانکوٹ کو ٹارگٹ کرنے کی بھی ویڈیو منظر عام پر آ گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کوئی طیارہ موجود نہیں ہے پروازیں منسوخ ہیں کی 4 پروازیں ائیر پورٹ پروازیں ا موجود ہے پورٹ سے پورٹ کی ا ج بھی
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب