بھارت کا خطے میں سپرمیسی کا خواب دفن ہو گیا،اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 مئی2025ء)نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہاہے کہ بھارت کا خطے میں سپرمیسی کا خواب دفن ہو گیا،سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر کوئی نہیں نکل سکتا،امریکا نے بھی کنفرم کیا کہ پاکستان کا کوئی ایف 16 نہ بھارت گیا اور نہ گرا ہے۔نجی ٹی وی کودیے گئے ایک انٹرویومیں اسحق ڈارنے کہاکہ دونوں طرف یہ واضح ہے کہ سیز فائر ہو چکا ہے اور یہ رہے گا۔
انہوںنے کہاکہ دونوں ملکوں میں افواج کو نارمل سطح پر لے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا، افواج کو نارمل سطح پر لے جانے کے بعد مذاکرات کا مرحلہ ہو گا۔اسحق ڈارنے کہاکہ طے ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کی نیوٹرل مقام پر ملاقات ہو گی، یہ طے ہونا ہے کہ وہ نیوٹرل مقام کون سا ہو گا، پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی اگلی گفتگو 18 مئی کو ہو گی۔(جاری ہے)
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے یک طرفہ طور پر کوئی نہیں نکل سکتا، جنگ بھارت نے شروع کی تھی ہم نے نہیں، ہم نے بھارت کے صرف پے لوڈ گرانے والے طیاروں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھی کنفرم کیا کہ پاکستان کا کوئی ایف 16 نہ بھارت گیا اور نہ گرا ہے، ہمارا صبر تب ختم ہوا جب 9 مئی کو بھارت نے نور خان ایئر بیس اور دیگر مقامات پر حملہ کیا۔اسحق ڈار نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ جب حملہ کریں گے تو چھپائیں گے نہیں، 10 مئی کو صبح سوا 8 بجے مارکو روبیو کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی پر تیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے روبیو کو کہا کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی، مارکو روبیو نے کہا کہ میں دوبارہ جے شنکر سے بات کرتا ہوں، سعودی وزیرخارجہ نے بھی کہا کہ اگر آپ کنفرم کرتے ہیں تو میں بھی جے شنکر سے بات کرتا ہوں۔نائب وزیر اعظم نے کہاکہ طے ہوا کہ 12 بجے ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن کو فعال کیا جائے گا، اطلاع آئی کہ ہاٹ لائن میں ان کی طرف شاید کوئی فنی خرابی ہے، 3 سے 4 بجے کے دوران بات ہوئی جس کے بعد سیز فائر ہوا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ نے کہاکہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔