چیئرمین سی ڈی اے کا جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کا جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا دورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا ممبر ایڈمن ، ممبر انجینئرنگ اور ممبر اسٹیٹ کے ہمراہ جناح سکوائر مری روڈ انڈر منصوبے کا اچانک دورہ،اس موقع پر دیگر متعلقہ افسران سمیت کنسلٹنٹس، آرکٹیکٹس اور پراجیکٹ ڈرایکٹر نے چیئرمین سی ڈی اے کو جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کے بارے میں تازہ ترین ترقیاتی کاموں کے بارے میں تفصیلی بریفننگ دی ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایت کے مطابق جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا تعمیراتی کام تکمیل کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
مجموعی طور پر جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا اب تک 85 فیصد تعمیراتی کام مکمل کیا جاچکا ہے۔جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کے سڑیکچرل کام کی فنشنگ کا آغاز کیا جاچکا ہے جناح سکوائر انڈر پاس کی بیوٹیفکش کے لئے ہارٹیکلچر سمیت الیکٹریکل ورک کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔منصوبہ کے ڈرینج سسٹم، روڈ ورک کے ساتھ اسفالٹ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔منصوبے کے تمام حصوں پر بیک وقت 24/7 کام کو یقینی بنا کر رفتار کو مزید تیز کیا جائیاس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہی جائے گی۔چیئر مین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں کے اعلی معیار اور کوالٹی کو یقینی بنایا جائے منصوبے کے اطراف دیدہ زیب لینڈ سکیپنگ اور ماحول دوست خوبصورت پودے لگائے جائیں۔
مستقل بنیادوں پر جدید اور خوبصورت ایل ای ڈی لائٹس نصب کی جائیں۔جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کی سفری ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے اور شہریوں کو ایندھن بچانے میں بھی مدد ملے گی۔اس منصوبے کی تکمیل سے انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد تا مری و کشمیر تک مسافروں کو سگنل فری سفری سہولیات میسر آئیں گئی۔اسلام آباد کے روڈ انفراسٹرکچر کے حوالے سے سی ڈی اے اس منصوبہ کی بروقت تکمیل سے اہم سنگ میل عبور کرنے جارہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر آصف زرداری نے گوجرانوالہ کینٹ کا دورہ ،آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے صدر مملکت کا استقبال کیا،جوانوں سے خطاب صدر آصف زرداری نے گوجرانوالہ کینٹ کا دورہ ،آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے صدر مملکت کا استقبال کیا،جوانوں سے خطاب بھارت کی ہٹ دھرمی، مودی کا پاکستان کا پانی روکنے کے نئے منصوبوں پر کام تیز کرنے کا حکم امریکہ کا بھارتی شہریوں کو سخت انتباہ،ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی،امریکہ میں سیاسی پناہ کی شرح میں بے پناہ اضافہ وزیراعظم کا عمران خان کے دور میں بننے والی ہائوسنگ اتھارٹی ختم کرنے کا فیصلہ ٹرمپ بیک وقت امن اور دھمکیوں کی بات کرتے ہیں، کس پر یقین کریں؟ ایرانی صدر پاک بھارت سیز فائر کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی: سکیورٹی ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا چیئرمین سی ڈی اے منصوبے کے کا دورہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘