بھارتی بارڈر سائیڈ پر بڑی تعداد میں فوجی نقل وحرکت کی اطلاعات، بھارت نے مزید 12 ٹارگٹ سیٹ کر لیے لیکن ہم ۔ ۔ ۔ شہری نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسلام آباد، مظفرآباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی بھارت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے اور اب ایک بار پھر بھارتی سیاسی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے لیکن پاکستان میں اس جیت کا جشن بھرپور طریقے سے منایا جارہاہے ، اب ایک سوشل میڈیا صارف نے بھارتی میڈیا کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بیان جاری کردیا۔
یوسف سعید نے لکھا کہ ” مکار دشمن بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہے، بھارتی بارڈر سائیڈ پر بڑی تعداد میں فوجی موومنٹ کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ ہم ریلیاں نکالنے میں مصروف ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے مزید 12 ٹارگٹ سیٹ کر رکھے ہیں جن پر حملہ کیا جا سکتا ہے”۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بھی پوری طرح چوکس اور دشمن کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہوریوں نے بجلی کا استعمال کم کردیا، اہم وجہ سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔