Express News:
2026-06-03@07:38:44 GMT

امن کا راستہ ہی واحد حل

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی شاندار لوگ ہیں، وہ ناقابل یقین چیزیں بناتے ہیں، انھیں نظر انداز نہیں کرسکتے۔ امریکی خبر رساں ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میری مداخلت نے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوںکو شدید فوجی کشیدگی کے بعد جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں مدد کی۔ میں تجارت کو استعمال کرکے جنگوں کو روک رہا ہوں۔

 بین الاقوامی طور پر امریکا سمیت دیگر ممالک نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے اور متوقع ایٹمی جنگ کو روکنے میں مثبت اور فوری کردار ادا کیا ہے۔ جنگ بندی کو بین الاقوامی طور پر خوش آیند قرار دیا گیا ہے۔ اس جنگ کے دوران در پیش مسائل کا ادراک بھی ضروری ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ان کی یہ پیشکش اس وقت بھی اہم سمجھی گئی جب بھارت نے اسے سختی سے مسترد کیا ۔ پاکستان کی طرف سے ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے اور کسی غیر جانبدار تیسرے فریق کی ثالثی سے حل کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کی پیشکش دراصل اسی خواہش کا عکس تھی تاہم بھارت کی ہٹ دھرمی اور داخلی سیاست میں کشمیر کارڈ کے غلط استعمال نے ہر کوشش کو ناکام بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرارداد جس پر کئی دہائیوں سے عمل نہیں کرایا جا سکا، اب اس کو یقینی بنانے کا وقت آگیا ہے۔ کشمیریوں کو آزادانہ طور پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے اور پاکستان اور بھارت دونوں اپنے ملکوں میں درپیش مسائل پر توجہ مرکوز کر کے اپنی عام عوام کی زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔

عالمی دنیا کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ بغیر ثبوت اور تحقیق کے صرف ایک الزام کی بنیاد پر کوئی ملک دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا حق نہیں رکھتا تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات اور جنگ سے بچا جا سکے۔ کیا واقعی ہم اکیسویں صدی کے 25 ویں سال میں رہ رہے ہیں، جہاں ہر مُلک میں تعمیر و ترقی کا شور ہے، مگر اِن دونوں ممالک کے عوام خوش حال زندگی کی تلاش میں اپنے اپنے ممالک سے بھاگ رہے ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ بھارت خُود پر طاری جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوئی تدبیر کرے۔

ہر بار حالات کی سنگینی نے عالمی برادری کو مجبور کیا کہ وہ مداخلت کرے اور فریقین کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرے۔ تاہم یہ وقتی حل تھے، مستقل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ تلوار لٹکتی رہے گی؟ کب تک دونوں ممالک اپنی معیشتوں، انسانی وسائل اور عوامی فلاح کو نظر انداز کر کے دفاعی اخراجات پر زور دیتے رہیں گے؟ ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک خوفناک سوچ ہے، لیکن جب دونوں ممالک کی تاریخ میں تین بڑی جنگیں ہو چکی ہوں، اور ہر وقت لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہو، تو ایٹمی جنگ کا امکان کوئی دور کی بات نہیں رہتی۔

پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت موجود ہے، جو دفاعی حکمت عملی کے اعتبار سے ایک خطرناک توازن پیدا کرتی ہے۔ کوئی بھی حادثاتی یا غیر ذمے دارانہ اقدام پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان محدود ایٹمی جنگ بھی چھڑ جائے، تو کروڑوں افراد لقمہ اجل بن جائیں گے، اس کے ماحولیاتی اثرات پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس صورت میں عالمی معیشت، خوراک کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات ناقابل تصور ہوں گے۔

ایسی صورتحال میں امن کا راستہ ہی واحد حل ہے۔ سوال یہ ہے کہ امن کیسے قائم ہو؟ اس کا پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ دونوں ممالک سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کی طرف آئیں۔ ٹھوس ایجنڈے، عوامی شمولیت، اعتماد سازی کے اقدامات اور مسئلہ کشمیر کو مرکز میں رکھنا ہوگا۔

اعتماد سازی کے لیے دونوں ممالک کو تجارت، ثقافت، تعلیم، سائنس اور ماحولیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔ جب عوام کے درمیان رابطے بڑھیں گے، جب طلبہ، فنکار، صحافی، اساتذہ اور کاروباری افراد ایک دوسرے کے ملک جائیں گے، تبھی دلوں میں پیدا ہونے والی خلیج کم ہو سکیں گی۔ میڈیا کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا، جو اکثر اوقات نفرت اور تعصب کو ہوا دیتا ہے۔

طاقتور اقوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف اس لیے خاموش رہنا کہ بھارت ایک بڑی منڈی ہے، ایک کمزور دلیل ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، یواے ای، قطر، جرمنی، فرانس، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، چین، روس اور امریکا کو مل کر اس مسئلے کو ایک منصفانہ اور پائیدار حل کی طرف لے جانا ہوگا۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔

چین، جاپان اور جرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنھوں نے جنگوں کے بعد معیشت، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی، اور آج دنیا کی طاقتوں میں شامل ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی طاقت علم، معیشت اور خوشحال عوام ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جنگ کے راستے سے ہٹ کر امن کی طرف قدم بڑھائیں۔ دشمنی ہماری قسمت نہیں، بلکہ ہماری اپنی بنائی ہوئی دیوار ہے، جسے ہم ہی گرا سکتے ہیں۔ 2023کے عالمی بینک کے ریکارڈ کے مطابق انڈیا میں 123 ملین افراد ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں۔

اسی طرح 2024 کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کی 42.

4 فیصد آبادی شدید غربت کا شکار ہے۔ دونوں ملکوں کے نوجوان اپنی معیشت سے مایوس ہو کر کثیر تعداد میں تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع ڈھونڈنے کے لیے مغربی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کو تعلیم، معاشی ترقی، سماجی مسائل، انسانوں کی حفاظت اور بہتر طرز زندگی کے لیے کوشش کی ضرورت ہے۔ جنگ ہو یا کوئی قدرتی آفت زیادہ نقصان ہمیشہ غریب کا ہی ہوتا ہے۔ سیاست دان یا بڑے اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ کسی بھی آفت سے اس طرح متاثر نہیں ہوتے جتنا خمیازہ ایک غریب کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اب دنیا کے لیے نیا موقع ہے کہ پاکستان کو نئے سرے سے سمجھے اور بھوک، افلاس اور دشمنوں کی ہزاروں سازشوں کے بیچ تھوڑے وسائل سے حاصل کی بہت مؤثر، ہمہ گیر قوتوں کا ادراک کرے، ہم احترام ڈیزرو کرتے ہیں، ہمارا احترام کیا جائے۔ وار ڈپلومیسی کا پہلا قدم یا ہدف تلخی کو جنگ میں بدلنے سے روکنا ہوتا ہے اور اِس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان رابطوں کے دروازے بند نہ ہوں۔

ویسے دشمن ممالک میں بھی بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے بات چیت کے دروازے کُھلے رہتے ہیں۔ ’’وار ڈپلومیسی‘‘ محض فریقین سے کام یاب نہیں ہوتی، اِسی لیے مختلف ممالک اُن کے ساتھ شامل ہوکر تنازعے یا جنگ کے خاتمے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ دوسری پارٹیز آپس میں دوست ہوتی ہیں یا اُن کے متعلقہ ممالک سے مضبوط روابط ہوتے ہیں۔ قطر اور پاکستان نے دوحا مذاکرات میں طالبان اور امریکا کے درمیان یہ کردار ادا کیا، جسے تُرکیہ، عرب ممالک، چین اور روس کی سپورٹ حاصل تھی۔

موجودہ صدی میں وار ڈپلومیسی کے تحت جنگیں رکوانے کے لیے اقتصادی دباؤ یا پابندیوں کا حربہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ کہنا کہ وار ڈپلومیسی حالیہ زمانے میں کام یاب نہیں ہو رہی، غلط ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ سفارت کاری میں وقت درکار ہوتا ہے، یہ کوئی جنگ نہیں ہوتی کہ لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کردیا جائے۔

اِس کے لیے صبر و حوصلے کے ساتھ، تدبر کی ضرورت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر عوام کی فکر کہ پراپیگنڈے کے ذریعے عام آدمی کے جذبات خواہ کتنے ہی کیوں نہ بھڑکا دیے جائیں، وہ بہرحال جنگ پسند نہیں کرتا اور اپنے بال بچوں کے ساتھ سُکون کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امن محض ایک نعرہ نہیں، ایک عملی عمل ہے، جو قربانی، برداشت، سمجھداری اور دور اندیشی کا تقاضا کرتا ہے، اگر دونوں ممالک اس سوچ کو اپنا لیں، تو مسئلہ کشمیر کا حل نکل سکتا ہے۔جنوبی ایشیاء کا خطہ عشروں سے عدم استحکام، کشیدگی اور خطرناک تنازعات کا شکار رہا ہے، جن میں سب سے سنگین اور دیرینہ مسئلہ پاک بھارت تعلقات اور ان کے بطن سے ابھرنے والا مسئلہ کشمیر ہے۔

یہ ایک ایسا قضیہ ہے جو نہ صرف دو ملکوں کے درمیان کشیدگی کا محور ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اس مسئلے کی پیچیدگی اس قدر گہری ہے کہ اسے محض سفارتی بیانات یا وقتی اقدامات سے سلجھایا نہیں جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک تاریخ کے زخموں کو سمجھتے ہوئے، حال کے تقاضوں اور مستقبل کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے مکالمے کا آغاز کریں، جس کا مرکز عوام کی خواہشات، انسانی حقوق کا احترام اور علاقائی سلامتی ہو۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت وار ڈپلومیسی دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کے درمیان یہ ہے کہ رہے ہیں نہیں کر نہیں ہو کے لیے کی طرف جنگ کے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد