عمران خان کی کسی حکومتی یا عسکری عہدیدار سے ملاقات نہیں ہوئی، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیل اور کوئی پیشکش نہیں کی گئی، مذاکرات یا پیشکشوں کے مرحلے گزر چکے، یہ سب سیاسی شوشے ہیں، لطف لینے والے لطف لیتے رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی کسی حکومتی یا عسکری عہدیدار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیل اور کوئی پیشکش نہیں کی گئی، مذاکرات یا پیشکشوں کے مرحلے گزر چکے، یہ سب سیاسی شوشے ہیں، لطف لینے والے لطف لیتے رہیں۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ سیاسی سیز فائر وہاں ہوتا ہے جہاں دو فریق فائرنگ کر رہے ہوں، حکومت کی طرف کوئی فائرنگ نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے کسی شخصیت کے رابطے ہوئے ہیں وہ ان کی اپنی جماعت کے ارکان ہیں، بانی سے ان کی بہنیں، وکلاء یا ان کے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ معاشی استحکام نہیں بانی پی ٹی آئی کو رہا کرو ہم نے معیشت کو بہتر کر لیا، سیاسی عدم استحکام کے باوجود 78 سال میں بھارت کے خلاف پہلی بڑی کامیابی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں اتفاق رائے سے قراردادوں کا آنا خوش آئند ہے، جہاں تک باہر سیاسی ماحول کا تعلق ہے اس کا انحصار پی ٹی آئی پر ہے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے فائرنگ ہوتی رہتی ہے، پہلے انہیں وہ روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کہاں کھڑا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کی ترجیحات کیا ہیں؟ تمام چیزیں واضح ہوچکی ہیں، عالمی منظرنامہ تبدیل ہوچکا، نئے منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی بنائیں گے، تو بات آگے بڑھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔