WE News:
2026-07-24@03:02:29 GMT

کیا کوئٹہ جدید شہر بننے جارہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

کیا کوئٹہ جدید شہر بننے جارہا ہے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا گیا، وزیر اعلیٰ نے مرکزی شہر کو ’ڈاؤن ٹاؤن‘ قرار دینے کی منظوری دی جہاں رکشوں کی جگہ محدود تعداد میں جدید اور ماحول دوست الیکٹرک کاریں متعارف کرائی جائیں گی۔ ان میں خواتین کے لیے خصوصی ’پنک کاریں‘ بھی شامل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں کوئٹہ: 23 اقسام کی چائے پیش کرنے والا ہوٹل شہریوں کی توجہ کا مرکز

وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں وال چاکنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور اشتہاری کمپنیوں کو قانونی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ حکمراں جماعتوں سمیت کوئی بھی سیاسی تنظیم اگر خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئی تو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے بعد تمام پینا فلیکس اور دیگر تشہیری مواد فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کے لیے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیر فعال سرکاری اسکولوں کو بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت فعال بنایا جائے، شجر کاری کے فروغ کے لیے محکمہ جنگلات کو ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

کیف بلدیہ کی تنظیم نو کے لیے سمری میں تاخیر پر وزیر اعلیٰ نے سیکریٹری بلدیات پر اظہار برہمی کیا اور سست روی پر جواب طلبی کرلی۔

انہوں نے واضح کیاکہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف جاری مہم کے تحت گزشتہ ایک ہفتے میں 1500 سے زیادہ بھکاریوں کو حراست میں لے کر بحالی مراکز منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ شہر کی شاہراہوں پر گائے اور بیل جیسے مویشی ٹریفک میں خلل اور عوامی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں اس مسئلے پر کارروائی کرتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن نے گزشتہ 7 دنوں کے دوران 7 بیل پکڑ کر فلاحی اداروں کے حوالے کیے ہیں۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے عالمو چوک میں ٹریفک کو منظم کرنے اور مٹن مارکیٹ کی واگزار کرائی گئی زمین پر زیر زمین پارکنگ اور بالائی سطح پر پبلک پارک کی جلد تکمیل کی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں کیا کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج شہریوں کی تقدیر بد ل پائےگا؟

وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی فلاح سے متعلق منصوبوں میں سنجیدگی، تیزی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئٹہ کو جدید، صاف اور منظم شہر بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پیش رفت تعلیم جدید شہر کوئٹہ میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیش رفت تعلیم کوئٹہ میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان وی نیوز وزیر اعلی ہدایت کی کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار