اسلام آباد(طارق محمودسمیر)وزیراعظم شہبازشریف اور وفاقی کابینہ نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندارکامیابی اور دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے پر آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیرکی خدمات کااعتراف کرتیہوئے انہیں فیلڈمارشل کے عہدے پرترقی کی منظوری دے دی ہے جب کہ پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل ظہیراحمدبابرسدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات جاری رکھنے کامتفقہ فیصلہ کیاگیاہے،اس فیصلے کااعلان وفاقی کابینہ کے ایک خصوصی اجلا س میں کیاگیاجس کی صدارت وزیراعظم شہبازشریف نے کی اور وزیراعظم آفس نے اس کاباقاعدہ اعلامیہ جب جاری کیاتو یہ ایک بریکنگ نیوز کے طورپر سامنے آیا،دلچسپ بات یہ ہیکہ وزیراعظم شہبازشریف نے خود کابینہ اجلاس میں جنرل سیدعاصم منیرکو فیلڈمارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی تجویزدی جس کی باضابطہ منظوری صدرآصف زرداری سے بھی لی گئی جوکہ بالحاظ عہدہ سپریم کمانڈربھی ہیں،جنرل عاصم منیرپاکستان کی تاریخ کے دوسرے جنرل ہیں جنہیں ان کی خدمات کے صلے میں فیلڈمارشل بنایاگیاہے،ماضی کو دیکھاجائے تو پاکستان کے پہلے فیلڈمارشل جنرل محمدایوب خان تھے جنہیں 27اکتوبر1959کووفاقی کابینہ کی منظوری سے فیلڈمارشل بنایاگیا،اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوب خان اس وقت صدراورمارشل لاء ایڈمنسٹریٹرکے دونوں عہدوں پرفائزتھے اور وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی خود ہی کی تھی حالانکہ 1965کی جنگ بعدمیں ہوئی،جب ایوب خان کو فیلڈمارشل کاعہدہ دیاجارہاتھاتو اس وقت ایک ویڈیوفلم بھی کابینہ اجلاس میں دکھائی گئی جس میں پاکستان کے لئے میگاترقیاتی منصوبوں اورخواتین کوحقوق دینے کے لئے کئے گئے فیصلوں کی تفصیل بھی بیان کی گئی اس ویڈیومیں اس وقت کی ایک معروف فلم ایاز کی شوٹنگ اور اداکارہ نیلو کابھی خصوصی انٹرویوبھی شامل تھا،ایوب خان کے حوالے سے ایک اوراہم بات ہے کہ جب سکندرمرزاپاکستان کے صدرتھے تو انہوں نے جنرل ایوب خان کی بطورکمانڈران چیف مدت ملازمت میں تیسری مرتبہ توسیع کی تھی،یہ توسیع ملتے ہی ایک ہفتے کے بعد 1958میں ایوب خان نے مارشل لاء لگادیااور سکندرمرزاکو عہدے سے برطرف کردیا،ذوالفقارعلی بھٹوکو ایوب خان نے اپنی کابینہ کا حصہ بنایااورانہیں پہلے مرحلے میں وزیرزراعت اور بعد میں وزیرخارجہ بنایاگیا،ماضی کاجائزہ لیاجائے تو سابق فوجی آمرجنرل ضیاء الحق بھی فیلڈ مارشل کااعزازحاصل کرناچاہتے تھے یہ بات اس وقت سامنے آئی تھی جب افغان جنگ کے خاتمے اورافغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی پر جنرل ضیاء الحق کو افغان جنگ کا ہیروقراردیاگیاتھالیکن شومئی قسمت کہ ضیاء الحق کے اپنے ہاتھ سے بنایاہواوزیراعظم محمدخان جونیجوان کی بات ماننے کو تیارنہیں تھااورجب یہ تجویزغیررسمی طورپرمحمدخان جونیجوکے پاس گئی تو انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو فیلڈ مارشل بنانے سے انکارکردیا،نوازشریف کے تیسرے دورحکومت کا جائزہ لیاجائے تو اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی افواج نے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی قیادت میں نمایاں کامیابی حاصل کی ،دہشت گردتنظیموں کے خلاف موثر کارروائی ہوئی،کراچی میں امن بحال ہوا،سابق آرمی چیف راحیل شریف نے ان خدمات کو جوازبناکرپہلے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرانے کی کوشش کی اور موجودہ وزیراعظم شہبازشریف اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارسمیت دیگراہم شخصیات کے ذریعے سابق وزیراعظم نوازشریف کو یہ پیغامات بھجوائے کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کردی جائے جب نوازشریف نے اس بات سے انکارکیاتو پھر اس خواہش کااظہارکیاگیاکہ انہیں فیلڈمارشل کااعزازدیاجائے تاہم نوازشریف نے اس تجویزسے بھی اتفاق نہیں کیا،پہلگام واقعہ کے بعد جب بھارت نے پاکستان پر الزامات عائدکئے اور پاکستان کی طرف سے ان الزامات کو نہ صرف مستردکیاگیابلکہ وزیراعظم شہبازشریف نے کاکول اکیڈمی میں اپنے خطاب میں عالمی تحقیقات کرانے کی تجویز دی مگربھارت نے اس طرح کی تجویزکومستردکرتے ہوئے پانچ اور چھ مئی کی رات کو پاکستان پر حملہ کردیامگرپاکستان کی بہادرافواج نے اسے ناکام بنایا،پاک فضائیہ نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور ایک گھنٹے کی ڈاگ فائٹ ہوئی بھارت کے اسی اور پاکستان کے تیس طیارے فضامیں رہے اور اس فضائی جنگ میں پاکستان کو غیرمعمولی کامیابی ملی ،رافیل سمیت چھ بھارتی طیارے تباہ ہوئے جب کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کے بریگیڈہیڈکوارٹرزسمیت دیگرفوجی تنصیبات کو تباہ کیاگیااس کے بعد بھارت باز نہ آیااوراس نے اسرائیلی ڈرون حملے کئے ،نواوردس مئی کی درمیان رات کو جب بھارتی میزائل نورخان ایئربیس سمیت دیگرائیربیسزاورمقامات پر آکرگرے تو وزیرعظم شہبازشریف کی اجازت سے آرمی چیف نے آپریشن بنیان المرصوص شروع کیااور پاکستان فضائیہ اور الفتح میزائلوں نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارت کے 26فوجی مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایاجس میں براہموس اور ایس 400فضائی دفاعی نظام کوناکارہ بنادیاگیاجس کے بعد بھارت امریکہ کے پاس پہنچ گیا اورامریکی صدرنے سیزفائزکیلئے کرداراداکیااس کامیابی پر پاکستان میں فوج کی خدمات کو سراہااورجنرل عاصم منیر ہیرواورنجات دہندہ کے طور پر ابھرکرسامنے آئے ،پاکستان کی تاریخی کامیابی کوعالمی سطح سراہاگیااورعالمی میڈیانے بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کیا،ایوب خان اور جنرل عاصم منیر کے فیلڈمارشل بننے میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ایوب خان نے ازخود فیصلہ کیاتھاجب کہ یہاں وزیراعظم شہبازشریف اور کابینہ نے فیصلہ کیاگوکہ یہ عہدہ فائیوسٹارجنرل کے برابرہوتاہے اور 1973کی اسرائیل عرب جنگ میں مصرکے سابق صدرحسنی مبارک کوبھی جنگ میں کامیابی پر فیلڈمارشل بنایاگیاتھااور1971میں جب سانحہ مشرقی پاکستان ہواتو اس وقت کے بھارتی آرمی چیف مانک شاہ کوبھی سابق بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے فیلڈمارشل کارینک دیاتھا۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ یورپی فوجی روایات سے نکلا ہے، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی افواج میں برطانوی فوج میں اسے فیلڈ مارشل کہا جاتا ہے جبکہ جرمنی میں یہ عہدہ جنرل فیلڈ مارشل کہلاتا ہے،برطانیہ، بھارت، جرمنی، روس وغیرہ میں بھی یہ رینک موجود رہا ۔عاصم منیرکو فیلڈمارشل بنائے جانے پر پاکستان میں خوشیاں منائی جارہی ہیں لیکن بھارت میں پریشانی ہے اور بھارتی میڈیانے اس پر پروپیگنڈاشروع کردیاہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ