WE News:
2026-06-03@05:17:28 GMT

پاک بھارت جنگ کے گمنام ہیروز

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

پاک بھارت جنگ کے گمنام ہیروز

حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے جہاں خطے میں سیاسی بے چینی کو جنم دیا، وہیں عالمی ہوا بازی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا۔

اس کشیدہ صورت حال میں دونوں ممالک نے اپنی فضائی حدود میں غیر معمولی پابندیاں نافذ کیں، جس کے باعث سینکڑوں بین الاقوامی پروازیں یا تو منسوخ ہوئیں یا طویل متبادل راستوں پر چلائی گئیں۔

اس صورت حال میں جہاں فوجی ادارے متحرک نظر آئے، وہیں ایک ایسا  ذمہ دار مستعد طبقہ بھی دن رات اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا، جس کا ذکر میڈیا یا سرکاری حلقوں میں شاذونادر ہی ہوتا ہے—  اور یہ خاموش مرد مجاہد پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز (ATCs) ہیں۔ جن کو کم لوگ جانتے ہیں۔

یہ وہ ماہرین ہیں جنہوں نے ایک انتہائی دباؤ بھرے ماحول میں پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کو محفوظ رکھا، بلکہ بین الاقوامی پروازوں کو بغیر کسی بڑے حادثے کے محفوظ راستہ فراہم کیا۔خاموشی سے۔

 یاد رہے کہ جنگی حالات میں پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں بین الاقوامی پروازوں کے رخ موڑنے سے فضائی ٹریفک میں بے پناہ اضافہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطہ اور فضائی ہم آہنگی فضائی حدود کی بندش اور بحالی کو حادثات سے محفوظ رکھنا اور سب سے بڑھ کے عسکری قیادت کے ساتھ بہترین ھم آہنگی  (coordination)

ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود یہ ماہرین پردے کے پیچھے کام کرتے رہے، نہ کوئی میڈیا کوریج، نہ کوئی حکومتی اعتراف۔ عالمی سطح پر اثرات، مگر مقامی سطح پر خاموشی___

انڈیا پاکستان کشیدگی کے دوران پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے تقریباً 375 ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے نہایت مہارت سے ملکی سول ایئرپورٹس اور 150 سے زائد فوجی ہوائی اڈوں کا فضائی نظام کے ساتھ بہترین  coordination کرتے رہے۔

کیو نکہ ایسے حالات میں ان کا کام صرف ارمڈ فورسز کے ساتھ coordination  ہو تا ہے۔ جدید ریڈار سسٹمز جیسے Indra Aircon 2100  سے لیس ایریا کنٹرول سنٹرز میں بیٹھے یہ افراد ہر لمحہ جہازوں کی رہنمائی اور سلامتی کے ضامن رہے۔

مگر افسوس! نہ وزیرِ اعظم نے ان کا ذکر کیا، نہ وزیرِ دفاع نے، اور نہ ہی کسی حکومتی اعلامیے میں ان کی خدمات کا اعتراف ہوا

عام شہری شاید اس بات سے ناواقف ہوں کہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کیا کرتے ہیں۔

یہ ماہرین ہر پرواز کو لینڈنگ، ٹیک آف اور فضا میں محفوظ رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ بیک وقت کئی طیاروں پر نظر رکھتے ہوئے تصادم سے بچاؤ کو یقینی بناتے ہیں۔

فوج، ایئرلائنز، ایئرپورٹس اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہیں۔ ان کی ایک غلطی سینکڑوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، لہٰذا یہ ذمہ داری اعلیٰ ترین تربیت، صبر اور فیصلہ سازی کی متقاضی ہوتی ہے۔

اعتراف کیوں ضروری ہے؟

یہ وہ خاموش مجاہد ہیں جو نہ تنقید کرتے ہیں، نہ توجہ مانگتے ہیں۔ مگر بطور قوم، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے کردار کو تسلیم کریں، ان کی خدمات کو سراہیں، اور انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

 یہ  وقت ہے کہ  ان گمنام ہیروز کی طرف توجہ دیی جائے۔ پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے نہ صرف جنگی حالات میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں، بلکہ عالمی ہوابازی کے نظام میں بھی پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئر ٹریفک کنٹرولرز بین الاقوامی پاکستان کے کرتے ہیں کے ساتھ

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی