راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ  پاکستان نے اپنے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں شفافیت دکھائی، کیا بھارت اتنی دیانتداری کا مظاہرہ کر رہا ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ  پاکستان  امن کا داعی ہے  اور پاکستان کا ذمہ دارانہ عسکری مؤقف ہے ،پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے خطے میں امن کا داعی ہے ۔پاکستان کی مسلح افواج نے پھر بھارت کو مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔

گھوٹکی میں نامعلوم افراد نے بھینس کی زبان کاٹ دی

نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 7 مئی کو یکطرفہ میزائل حملے کے بعد پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دفاع تک محدود کارروائیاں کیں، پاک فضائیہ نے مؤثر جوابی کارروائی میں بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے۔

  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری افسران کے درمیان رابطہ موجود ہے اور ایک مؤثر مکینزم فعال ہے۔نور خان ایئربیس سمیت چند مقامات کو نشانہ بنایا گیا لیکن پاکستان کی فضائی صلاحیت مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔پاکستان نے اپنے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں شفافیت دکھائی، مگر کیا بھارت بھی اتنی دیانتداری کا مظاہرہ کر رہا ہے؟پاکستان نے سیز فائر کا احترام کر کے ذمہ داری دکھائی، مگر بھارت کی اشتعال انگیزی بدستور جاری ہے ۔

رائے ونڈ میں خاتون کی ہاتھ، پاؤں بندھی لاش برآمد

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا