قانون ساز اسمبلی میں قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی فوج بی جے پی کے انتہا پسندوں کا مرکز ہے، پاکستان سے شکست کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کا اعزاز قوم کی جانب سے سپہ سالار کو بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنے پر تحفہ ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے مکروہ واقعات میں ملوث ہے، یہاں کے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کرا رہا ہے، سندھ میں نظامانی صاحب کا قتل کرایا گیا، پاکستان سے شکست کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ بھارت کی فوج بی جے پی کے انتہا پسندوں کا مرکز ہے، گائے کا بچھڑا بھی اس کا دودھ پیتا ہے پیشاب نہیں پیتا، بھارت کا وزیراعظم متعصب ہندو ہے، بھارت کے ساتھ جنگ میں اس وقت کے جنرل عاصم منیر اور آج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں شاندار کامیابی حاصل کی، پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر بابر سدھو کو توسیع ملنے پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ پوری قوم کی خواہش تھی۔

پاک بحریہ بھی مستعد رہی، بھارت کا بحری بیڑہ قریب نہیں آیا اگر آتا تو اس کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو اس کی توقع سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، بھارت اس کے اعدادوشمار نہیں پیش کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے حکمت عملی ہی تبدیل کر دی ہے۔ آپریشن بنیان المرصوص مربوط حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ بھارت کو حربی اور سفارتی محاذ پر شکست اٹھانا پڑی۔ بھارت کی فوج میں انتہا پسند ہیں جنہوں نے مساجد کو نشانہ بنایا، پاکستان نے کسی بھی مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔ پہلگام کا ڈرامہ سارا خود بھارت نے کیا ہے۔

آرمڈ کنفلکٹ اور سفارت کاری میں پاکستان نے فتح حاصل کی پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، سوائے اسرائیل کے کسی نے بھی بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ 10 مئی کو یوم فتح ہر سال منائیں گے۔ ہمیں یقین ہے اب کشمیر کا معاملہ آگے بڑھے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تینوں دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وسیع البنیاد مذاکرات ہوں جن سے پہلے بھارت انتہا پسندانہ توسیع پسندانہ سوچ ترک کرے اور علاقے کی چوکیداری اور کھڑپینچی کا خیال دل سے نکالے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بیرون ممالک میں جو وفد بھیجے نہایت بہترین کاوش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان نے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا