Nawaiwaqt:
2026-06-02@22:59:38 GMT
بھارتی ہائی کمیشن کا اہلکار ناپسندیدہ سخصیت قرار،فوری پاکستان چھوڑنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر 24 گھنٹے میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ بھارتی اہلکار کو سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی ناظم الامور گیتکا سری واستو کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ بھارتی ناظم الامور کو سفارتی اہلکاروں کو سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔