خضدار ؛ سکول بس پر دہشتگردی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد سینیٹ میں منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
سٹی 42 : خضدار میں سکول بس پر دہشتگردی حملے کے خلاف مذمتی قرارداد سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔
سینیٹر شاہ زیب درانی نے قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ انڈیا پاکستان میں ریاستی دہشگردی کرا رہا ہے، انڈیا پراکسیز کے زریعے خطہ کا امن خطرے میں ڈال رہا ہے، خضدار میں واقعہ قابل مذمت ہے ۔
قرارداد کے مطابق سینیٹ شہدا کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہے، حکومت سانحہ خصدار کی تحقیقات کرے مجرمان کو قرار واقعی سزا دی جائے، عالمی برداری بھارتی سپانسرڈ دہشتگردی کا نوٹس لے ۔
خصوصی بچوں کےسکولوں کے اوقات کار میں کمی
قردادار کے متن میں لکھا گیا کہ خضدار میں معصوم بچیوں کی بس پر دہشت گردی کے بزدلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہیں، بزدلانہ حملہ بھارت نے پلان کیا اور اپنی پراکسیز کے ذریعے خضدار میں حملہ کیا، معصوم بچوں کے خلاف یہ ایک شرمناک اقدام اور ناقابل برداشت ہے، پوری قوم دہشت گردی کے اس بزدلانہ قوم کے خلاف متحد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔