ہارورڈ میں غیر ملکی طلبہ کے داخلوں پر پابندی، چین کا رد عمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 مئی 2025ء) ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلے پر پابندی لگانے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جمعے کو چین کی حکومت نے کہا کہ اس سے امریکہ کی بین الاقوامی حیثیت اور اس یونیورسٹی کو نقصان پہنچے گا۔
ہانگ کانگ کی ایک یونیورسٹی نے اس غیر یقینی کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر ملکی طلبہ کو اپنے ہاں یہ موقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کا مقصد اس صورتحال کا فائدہ اٹھانا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں چینی طلبا کی تعداد
ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ کی کُل تعداد میں اکثریت چینی اسٹوڈنٹس کی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کے تمام مختلف شعبوں میں 2024 ء میں 6,703 غیر ملکی طلبہ نے داخلہ لیا۔
(جاری ہے)
ان میں صرف چین سے آنے والے طلبہ کی تعداد 1,203 تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے جس اقدام کا اعلان جمعرات کو کیا گیا، اس بارے میں چینی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
چین کا ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی یہ سوال اُٹھا رہا ہے کہ آیا غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکہ اب سرفہرست ملک رہے گا۔ہارورڈ یونیورسٹی انتظامیہ پہلے ہی امریکی حکومت کے اس اقدام کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر چُکی ہے۔ سی سی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک تبصرے میں کہا گیا ہے،''قانونی چارہ جوئی کی طویل مدت کی وجہ سے ہزاروں بین الاقوامی طلبہ کو انتظار کرنا پڑے گا اور انہیں پریشانی اُٹھانا پڑ سکتی ہے۔
‘‘ مزید کہا گیا،'' اگر یہ غیر یقینی کی پالیسی معمول بن جاتی ہے تو بین الاقوامی طلبہ کو دیگر آپشنس پر غور کرنا پڑے گا۔‘‘چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں روزانہ کی بریفنگ میں کہا کہ چین اور امریکہ کے مابین تعلیمی شعبے میں تعاون دونوں کے سانجھے مفاد جُڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا،''امریکہ کی جانب سے متعلقہ اقدامات سے صرف اس کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
‘‘ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا تھا ،'' چین بیرون ملک اپنے طلبہ اور اسکالرز کے حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کرے گا۔‘‘ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ موجودہ صورتحال میں چین کیا کرے گا۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کی پیشکش
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ہارورڈ میں پہلے سے ہی زیر تعیلم اور نیا داخلہ لینے والے بین الاقوامی طلبہ کو ایک وسیع دعوت نامہ دے چُکی ہے۔
ادارے نے یہ کہتے ہوئے ایک خبر جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ غیر ملکی طلبہ کو غیر مشروط پیشکش کرتا ہے، داخلہ لینے کے لیے ایک آسان طریقہ کار اورہارورڈسے ہانگ کانگ یونیورسٹی میں منتقلی کی تمام سہولیات فراہم کرتا ہے۔امریکہ چین تعلقات
بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے چینی طلبہ کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں تناؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔
ٹرمپ کے دور کی پہلی مدت میں چین کی وزارت تعلیم نے چینی طالب علموں کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ میں اسٹوڈنٹس ویزہ مسترد ہونے کی بڑھتی ہوئی شرح اور مختصر مدت کے لیے ویزہ ملنے جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ سال، چینی وزارت خارجہ نے احتجاج کیا تھا کہ ایک بڑی تعداد میں امریکہ پہنچنے پر چینی طالب علموں سے بہت زیادہ پوچھ گچھ کی گئی جب کہ کئی کوایئرپورٹ سے ہی واپس چین بھیج دیا گیا تھا۔
چین کے سرکاری میڈیا ایک طویل عرصے سے امریکہ میں پائے جانے والے آتشیں اسلحے سے جڑے مسئلے پر روشنی ڈالتا رہا ہے اور امریکہ کو ایک خطرناک ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے ۔ اب کچھ چینی طالب علم امریکہ کی بجائے برطانیہ یا دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی طلبہ ہارورڈ یونیورسٹی یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ ہانگ کانگ طلبہ کو میں چین چین کی رہا ہے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک