ٹرمپ نے ہارورڈ میں غیر ملکی طلباء کے داخلے پر پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 مئی 2025ء) امریکہ میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جمعرات 22 مئی کو اعلان کیا کہ اس نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے بین الاقوامی طلباء کے اندراج اور داخلہ دینے کی اہلیت منسوخ کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے اپنے مطالبات کو مسترد کیے جانے کے بعد غصے کا اظہار کیا تھا۔ وہ یونیورسٹی کو سامیت دشمنی کا مرکز قرار دیتے ہیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ داخلے کے عمل میں نگرانی سے کام لیا جائے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے ادارے کو ایک خط لکھ کر بتایا ہے کہ ’’ہارورڈ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام کو فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ 162 افراد کو نوبل انعام سے نوازا جا چکا ہے۔
(جاری ہے)
ٹرمپ انتظامیہ: ہارورڈ یونیورسٹی کو نئی وفاقی گرانٹس بند
’ہارورڈ یہودی طلباء کے لیے دشمن‘نوم نے اپنے مکتوب میں لکھا، ’’جیسا کہ میں نے اپریل میں لکھے گئے خط میں آپ کو واضح کیا تھا کہ غیر ملکی طلباء کو داخلہ دینا ایک استحقاق ہے۔
‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ’’محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے متعلقہ معلومات فراہم کرنے سے متعلق جو متعدد درخواستیں کیں، اس پر آپ نے تعمیل کرنے سے انکار کر دیا اور نتیجتاﹰ کیمپس میں ایک ایسا غیر محفوظ ماحول برقرار ہے، جو یہودی طلباء کا مخالف ہے، حماس کی حمایت میں ہمدردی کو فروغ دیتا ہے اور نسل پرست ’تنوع، مساوات اور شمولیت‘ کی پالیسیوں کو استعمال کرتا ہے، اس لیے آپ نے یہ حق کھو دیا ہے۔
‘‘ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
نوم کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہارورڈ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو ’’ملک بھر کی دیگر تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک انتباہ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔‘‘
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ اگر یونیورسٹی اگلے 72 گھنٹوں کے اندر غیر ملکی طلباء کے بارے میں ریکارڈ تیار کر لے، تو وہ غیر ملکی طلباء کی میزبانی کرنے کی اپنی صلاحیت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی طرف سے کیمپس کے اندر احتجاج کرنے یا خطرناک سرگرمیوں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلباء کی آڈیو یا ویڈیو فوٹیج سمیت تمام ریکارڈز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’’یہ انتظامیہ ہارورڈ کو اپنے کیمپس کے اندر تشدد اور سامیت دشمنی کو فروغ دینے کے ساتھ ہی چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے بھی جوابدہ ٹھہرا رہی ہے۔
‘‘ہارورڈ کے اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام کے سرٹیفیکیشن کے بعد بین الاقوامی طلباء کو ویزا حاصل کرنے اور امریکہ میں قائم اس کے کیمپس میں داخلہ لینے کے لیے اسپانسر جیسی سہولیات حاصل کرنے کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔
ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے اربوں ڈالر کی امداد روک دی
ہارورڈ کا غیر ملکی طلباء کی مدد کا عزمہارورڈ نے حکومت کے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی طلباء کی حمایت جاری رکھے گی۔
ہارورڈ نے ایک بیان میں کہا، ’’حکومت کی کارروائی غیر قانونی ہے۔ اس انتقامی کارروائی سے ہارورڈ کمیونٹی اور ہمارے ملک کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، اور اس سے ہارورڈ کے تعلیمی اور تحقیقی مشن کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
یونیورسٹی نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی طلباء کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
رواں برس کے تعلیمی سال کے دوران تقریباً 6,800 طلباء، جو ادارے کے تمام طلباء کا ایک چوتھائی سے زائد ہیں، دیگر ممالک سے آئے ہوئے ہیں۔
ادارت: افسر اعوان
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہوم لینڈ سکیورٹی کی ہارورڈ یونیورسٹی نے ہارورڈ طلباء کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔