کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی کی حمایت کی۔ سینیٹر وقار مہدی نے چیئرمین منتخب ہونے پر کمیٹی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلیں گے اور قوانین، رولز آف بزنس اور جمہوری اقدار کی پاسداری کو ترجیح دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر وقار مہدی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ انتخاب کا عمل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقدہ اجلاس میں مکمل ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسَر نے سینیٹر وقار مہدی کے نام کی تجویز پیش کی، جس کی تائید سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان نے کی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی کی حمایت کی۔ سینیٹر وقار مہدی نے چیئرمین منتخب ہونے پر کمیٹی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلیں گے اور قوانین، رولز آف بزنس اور جمہوری اقدار کی پاسداری کو ترجیح دیں گے۔ اجلاس میں سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور سینیٹر اسد قاسم نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین مرحوم سینیٹر تاج حیدر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، اور ان کی پارلیمانی و جمہوری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سینیٹر وقار مہدی کمیٹی کے تمام کرتے ہوئے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف