سینیٹر وقار مہدی بلامقابلہ چیئرمین سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق منتخب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی کی حمایت کی۔ سینیٹر وقار مہدی نے چیئرمین منتخب ہونے پر کمیٹی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلیں گے اور قوانین، رولز آف بزنس اور جمہوری اقدار کی پاسداری کو ترجیح دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر وقار مہدی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ انتخاب کا عمل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقدہ اجلاس میں مکمل ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسَر نے سینیٹر وقار مہدی کے نام کی تجویز پیش کی، جس کی تائید سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان نے کی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی کی حمایت کی۔ سینیٹر وقار مہدی نے چیئرمین منتخب ہونے پر کمیٹی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلیں گے اور قوانین، رولز آف بزنس اور جمہوری اقدار کی پاسداری کو ترجیح دیں گے۔ اجلاس میں سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور سینیٹر اسد قاسم نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین مرحوم سینیٹر تاج حیدر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، اور ان کی پارلیمانی و جمہوری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سینیٹر وقار مہدی کمیٹی کے تمام کرتے ہوئے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔