وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے پاکستانی حج پر نہیں جاسکیں گے، اس حوالے سے وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے جو بھی ذمہ دار ہوا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، سرکاری حج کا کوٹہ مکمل ہوگیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ میں 2 دفعہ سعودی عرب گیا اور وہاں پر حج انتظامات دیکھے، سعودی عرب کے وزیرحج سے بھی ملاقات ہوئی، پاکستان کی سرکاری حج اسکیم کے تحت 50 فیصد عازمین حج جاتے ہیں، جبکہ 50 فیصد پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے جاتے ہیں، پاکستان کا ٹوٹل کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے، نصف پرائیویٹ اور نصف سرکاری اسکیم کے تحت عازمین حج، حج پر جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خادم الحرمین الشریفین نے ایک ہزار فلسطینیوں کو ذاتی خرچے پر حج کرانے کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیم کے تحت حج کا جو کوٹہ ہے اس کو وزارت مذہبی امور ہینڈل کرتی ہے، سعودی تعلیمات کے مطابق سرکاری حج کا جتنا بھی کوٹہ ہے وہ مکمل ہوگیا ہے، بدقسمتی سے پرائیویٹ آپریٹرز ایسا نہیں کرسکے، سعودی عرب نے بتادیا تھا کہ جس کمپنی کے پاس 2000 کا عدد ہوگا، اس کو شامل کریں گے، پرائیویٹ کمپنیوں نے مل کر کلسٹر بنائے اور 2000 کا عدد پورا کیا، ہوپ ان کی سپرویژن کرتی ہے اور ہوپ کی اپنی پالیسی ہے، لیکن سعودی وزارت حج نے 14 فروری کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ آپ نے اس مدت تک 25 فیصد رقم جمع کروانی ہے، جب تک بکنگ نہیں ہوگی اس وقت تک آپ کوئی بلڈنگ یا ٹرانسپورٹ نہیں لے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ 14 فروری تک صرف 3 ہزار 600 افراد نے رقم جمع کروائی، اس کے بعد انہوں نے پھر ایکسٹینشن دی، اور 48 گھنٹے دیے کہ آپ اس میں مزید پیسے جمع کریں، تاکہ قدانہ (پلاٹ جہاں مکتب بنائے جاتے ہیں) آپ کے نام پر الاٹ کی جائے اور آپ کو طوافہ فراہم کی جائیں، اس کے بعد پرائیویٹ حج آپریٹرز کے تحت مزید کوئی 10 ہزار افراد نے پیسے جمع کروائے، ٹوٹل 13 ہزار افراد ہوگئے۔

’جب ہمیں اس بات کا علم ہوا تو میں سعودی عرب گیا، وہاں وزیر حج سے ملاقات ہوئی اور ہم نے ان سے درخواست کی مزید وقت دیا جائے اور کوٹہ بھی بڑھایا جائے، سعودی عرب کی حج پالیسی تمام ممالک کے لیے یکساں ہے، اگر کسی کا حج کوٹہ بڑھایا جائے گا تو سب کے لیے بڑھایا جائے گا، میں سعودی عرب سے واپس آیا تو وزیراعظم سے ملاقات کی، وزیراعظم نے فوری طور پر نوٹس لیا اور وزیرخارجہ کی ذمہ داری لگائی، وزیرخارجہ نے سعودی حکام سے رابطہ کیا، جس کے باعث کوٹے میں 10 ہزار کا اضافہ ہوا، سعودی حکومت نے دوسرے ممالک کے لیے بھی یہ 10 ہزار کا کوٹہ دیا۔‘

یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے عازمین کو جعلی حج پرمٹ سے ہوشیار کردیا

محمد یوسف نے کہا کہ اب پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت ٹوٹل 25 ہزار 698 عازمین حج پر جاسکیں گے، ہم نے بارہا پرائیویٹ حج آپریٹرز کو خطوط بھی لکھے کہ وہ اس ٹائم تک ضروریات پوری کریں، اگر تاخیر کریں گے تو آپ کا کوٹہ متاثر ہوگا اور آپ کا کوٹہ کم کردیا جائے گا، نجی شعبے نے عازمین حج کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے، وزارت کی طرف سے وقتاً فوقتاً اشتہار بھی دیے گئے، لوگوں کو بھی اطلاع دی گئی کہ اگر کوئی عازمین حج کسی جگہ کوئی بکنگ کرتا ہے تو وہ اپنی تصدیق کرکے بکنگ کرے کہ آیا اس کو اجازت ملی ہے یا نہیں ملی، اگر اجازت نہیں ملی تو ایسی کمپنی میں آپ بکنگ نہ کریں، ہم نے اشتہار میں بتادیا تھا کہ ان ان کمپنیوں کو کوٹہ ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ پاکستان کو جو کوٹہ ملا تھا اس کے مطابق پاکستانی عازمین کو حج پر جانا چاہیے تھا لیکن بعض لوگوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ رہ گئے، جس کی بھی غفلت یا کوتاہی ہے حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے گی، اس حوالے سے وزیراعظم نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں، رپورٹ آںے کے بعد جو بھی کارروائی بنتی ہے اس پر عملدرآمد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وزرات مذہبی امور نے عازمین حج کو کس بات سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا؟

ان کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ گیا تھا، حج انتظامات کا جائزہ لیا، مدینہ منورہ میں ہمارے حاجی 100 فیصد مرکزیہ میں رہائش پذیر ہیں، اس میں تھری اسٹار، فوراسٹار، فائیو اسٹار ہوٹلز تھے، عازمین حج بڑے خوش تھے، حاجی کھانے کے انتظامات سے بڑے مطمئن ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پرائیویٹ احج اسکیم حج سردار محمد یوسف وزارت مذہبی امور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پرائیویٹ احج اسکیم سردار محمد یوسف پرائیویٹ حج ا اسکیم کے تحت محمد یوسف نے کہا کہ جاتے ہیں حج اسکیم ا پریٹرز کا کوٹہ کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف