باجوڑ، بم دھماکے سے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار سمیت چار افراد ہلاک، 12 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار سمیت چار افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں۔
بدھ کو دھماکہ اس وقت ہوا جب اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل اسماعیل کی گاڑی پھاٹک میلہ کے قریب سے گزر رہی تھی۔
ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق نے اردو نیوز سے گفتگو میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاوہ دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ڈی پی او کے مطابق انتظامی حکام معمول کے مطابق پولیس کے ہمراہ بازاروں کو معائنہ کرنے نکلے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوا۔
ترجمان پولیس منصور خان کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ سات شہری بھی زخمی ہوئے، جن کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت اور گورنرخیبر پختونخوا کی جانب سے باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک دشن عناصر کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے اس واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
دوسری جانب مشیر صحت احتشام علی نے ڈی ایچ او اور ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر باجوڑ سے رابطہ کیا زخمیوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک