شمالی کوریا یوکرین کیخلاف روس کی مدد کے لیے 20 ہزار فوجی بھیج رہا ہے، یوکرینی انٹیلجنس رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
یوکرین کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے روس کے ساتھ یوکرین کے خلاف محاذ پر لڑنے والے اپنے فوجیوں کی تعداد میں 3 گنا اضافے کا فیصلہ کردیا ہے۔
سی این این کی خبر کے مطابق رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے 11 ہزار فوجی اس وقت روس کے ہمراہ یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں تاہم اب ان کی تعداد 30 ہزار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: یوکرین کا روس کے ایئربیس پر حملہ، 40 سے زیادہ بمبار طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
خبر کے مطابق اس سے قبل نومبر میں بھیجے گئے 11 ہزار شمالی کورین فوجیوں نے روس کے علاقے کریسک میں یوکرین کے حملے کو روکنے میں مدد کی۔ مغربی حکام کے مطابق ان فوجیوں میں سے تقریباً 4 ہزار کو ہلاک یا زخمی کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق روس اپنے ہوائی جہازوں کو بڑی تعداد میں فوجیوں کو لے جانے کے لیے تیار کررہا ہے۔ روس کی دونائی بندرگاہ پر بحری جہاز کی آمد اور شمالی کوریہ کے سونان ہوائی اڈے پر کارگو فضائی جہازوں کی موجودگی کو اس خفیہ رپورٹ میں شمالی کوریا کے دستوں کی نقل و حرکت کے لیے ممکنہ تیاری کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
روس شمالی کوریا فوج فوجی امداد یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا فوج فوجی امداد یوکرین شمالی کوریا کے مطابق کے لیے روس کے
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔