UrduPoint:
2026-07-24@08:54:16 GMT

امریکا نے یوکرین کو کچھ ہتھیاروں کی فراہمی روک دی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

امریکا نے یوکرین کو کچھ ہتھیاروں کی فراہمی روک دی

واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 جولائی ۔2025 )وائٹ ہاﺅس نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری شدید جنگ کے درمیان امریکا نے یوکرین کو کچھ ہتھیاروں کی فراہمی روک دی ہے وائٹ ہاﺅس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے مفادات کو مقدم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے.

امریکی جریدے کے مطابق یہ فیصلہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے دیگر ممالک کو امریکی فوجی امداد اور تعاون‘ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھیجی ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ میں کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس کے امریکہ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں.

(جاری ہے)

یوکرین نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی کھیپ روکی جا رہی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اعلان کے بعد فضائی دفاعی میزائل اور گولہ بارود متاثر ہونے والے ہتھیاروں میں شامل ہیں یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے نیدرلینڈز میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے اپنے ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کے فورا بعد سامنے آیا ہے.

ادھر برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اعلان سے اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان بداعتمادی بڑھے گی کیونکہ نیٹوکے سربراہی اجلاس میں یوکرین کا مسلہ سرفہرست رہا ہے اور امریکا کے یورپی اتحادی روس کے خلاف یوکرین کی حمایت میں کھڑے ہیں صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد یوکرین ‘روس جنگ اور ٹیرف سمیت دیگر امور پر واشنگٹن اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات تناﺅ کا شکار ہیں .                                                                           

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے درمیان کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا