اسرائیل 60 دن کی جنگ بندی کی شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جس نئی جنگ بندی کی پیشکش کو منظوری دی گئی ہے، اس میں غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز شامل ہے، معاہدے میں حماس کے تحفظات کو بھی پیش ِ نظر رکھا گیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ حالیہ دنوں میں حتمی شکل اختیار کر گیا، جو کہ کئی ماہ کی پس پردہ کوششوں کا نتیجہ ہے، ان کوششوں کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے کی۔
ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ اس نئی پیشکش میں قطری ثالثوں نے اہم کردار ادا کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ حماس کے پہلے معاہدے سے متعلق تحفظات کا ازالہ کیا جائے، اس معاہدے کے تحت جنگ بندی کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ میرے نمائندوں نے آج غزہ کے معاملے پر اسرائیلی حکام کے ساتھ ایک تفصیلی اور بامقصد ملاقات کی، اسرائیل 60 دن کی جنگ بندی کی شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، قطر اور مصر کے حکام اس حوالے سے حتمی تجاویز پیش کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امید ہے حماس اس معاہدے کو قبول کرے گی، اگر حماس نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، اس سے بہتر موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو 7 جولائی کو امریکا کا دورہ کریں گے جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی کریں گے۔
گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران غزہ اور ایران کی صورتحال پر گفتگو کریں گے۔
، سی این این کے مطابق نیتن یاہو اس وقت دو ممکنہ راستوں پر غور کر رہے ہیں، یا تو جنگ بندی کی کوشش کی جائے یا پھر غزہ پر حملوں میں شدت لائی جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجی عہدیدار نے سی این این کو بتایا ہے کہ اسرائیل تاحال اپنے تمام جنگی اہداف حاصل نہیں کر سکا، لیکن چونکہ حماس کی قوت کمزور پڑ چکی ہے اور وہ زیرِ زمین چھپ چکی ہے، اس لیے باقی ماندہ گروہ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنانا مشکل ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگ بندی کی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔