سید محسن رضا نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا نے وفاقی وزیر داخلہ سے سی پیک موٹروے پر ڈکیتی اور اغواء کی وارداتوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ڈی آئی خان کے عوام کیلئے آرام دہ سفری سہولت ہے جس کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، طورخم بارڈرز پر عوامی و تجارتی مسائل، تفتان بارڈر پر زائرین کو درپیش مشکلات سے متعلق امور بھی زیر بحث رہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر داخلہ سے سی پیک موٹروے پر ڈکیتی اور اغواء کی وارداتوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سی پیک ڈی آئی خان کے عوام کیلئے آرام دہ سفری سہولت ہے جس کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تحصیل پہاڑ پور میں پاسپورٹ دفتر کے قیام سے متعلق قابل عمل اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی سی پیک
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔