ماہرہ خان کے ساتھ لندن میں بدسلوکی کا ناخوشگوار واقعہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ ماہرہ خان کو لندن میں اپنی نئی فلم لو گرو کے ایک پروموشنل ایونٹ کے دوران انتہائی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ہمایوں سعید کے ہمراہ لندن کے علاقے الفورڈ میں واقع انڈو-پاک سپر مارکیٹ میں مداحوں سے ملنے اور فلم کی تشہیر کے لیے پہنچیں۔
ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا، لیکن جیسے جیسے ہجوم بڑھتا گیا، صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی۔ سیکیورٹی انتظامات انتہائی ناقص تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند اوباش نوجوانوں نے بدتمیزی شروع کردی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ماہرہ خان رش کے دوران اسٹور میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، تب بعض افراد نے انہیں نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی، جس پر اداکارہ شدید پریشان اور نالاں دکھائی دیں۔
ماہرہ خان کا ارادہ تھا کہ وہ اسٹور کی چھت پر جا کر اپنے مداحوں کو ہاتھ ہلائیں اور ان سے رابطہ قائم کریں، لیکن یہ اقدام بھی ہجوم کے دباؤ کی نذر ہوگیا۔ اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں جن میں ماہرہ خان اور ہمایوں سعید کو چھت سے ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، مگر اس خوش مزاجی کے پیچھے اداکارہ کی پریشانی چھپی نہیں رہی۔
تاحال نہ ماہرہ خان اور نہ ہی ایونٹ کے منتظمین کی جانب سے اس ناخوشگوار واقعے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے، تاہم مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی جا رہی ہے اور اداکارہ کے لیے اظہارِ یکجہتی کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ماہرہ خان اور ہمایوں سعید کی فلم لو گرو 6 جون کو سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے، اور اس فلم کی پروموشن کے لیے دونوں فنکار ان دنوں بیرونِ ملک دورے پر ہیں۔ تاہم اس افسوسناک واقعے نے ایونٹ کی خوبصورتی کو گہنا دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ماہرہ خان
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔