Express News:
2026-07-24@09:01:16 GMT

یہ دہشت گرد کون ہوتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

وہ چھوٹا سا لڑکا جو ملبے کے ڈھیر سے کتاب نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ماں جو لاپتہ بیٹے کی تصویر لیے دہلیز پر بیٹھی ہے۔ وہ نوجوان جو جنگ زدہ شہر کی دیواروں پر امید کے اشعار لکھتا ہے۔ یہ سب کون ہیں؟ اور وہ کون ہے جو ہمیں دن رات سمجھاتا ہے کہ یہ سب دہشت گرد ہیں؟ صدیوں سے ایک سوال ہے جو تہذیبوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ جو کوئی چیختا ہے تو اسے شور مچانے والا کہا جاتا ہے۔ جب کوئی مزاحمت کرتا ہے تو اسے باغی یا فسادی لکھا جاتا ہے اور جب کوئی بندوق اٹھاتا ہے تو اس کے ساتھ ایک لیبل چپکا دیا جاتا ہے، دہشت گرد کا۔ یہ لیبل وہ ہیں جو طاقتور قومیں اپنے مفاد کی بنیاد پرگھڑتی ہیں۔

جن ہاتھوں میں بارود کے ڈھیر ہوتے ہیں وہی طے کرتے ہیں کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔ جس کے پاس میڈیا ہے، میزائل ہیں، منڈی ہے، وہی اپنی مرضی کی کہانی لکھتا ہے اور باقی دنیا بس تماشائی بن کر دیکھتی ہے ،کچھ تالیاں بجاتی ہے ،کچھ چپ رہتی ہے اور کچھ کچلے ہوئے لوگ بند گلیوں میں مر جاتے ہیں۔

میں نے فلسطین میں وہ بچی دیکھی ہے جس کے پاؤں کے نیچے سے زمین چھینی گئی۔ میں نے ان نوجوانوں کو سنا ہے جن کے سوالوں کو گولیوں سے جواب دیا گیا۔ میں نے کشمیر کے ان بچوں کی آنکھوں میں وہ دھند دیکھی ہے جو پیلٹ گنوں سے پیدا ہوتی ہے۔ میں نے کابل، بغداد، یمن،کردستان اور غزہ کی لاشوں پر وہ جھنڈے لہراتے دیکھے ہیں جن پر امن اور ترقی کا دعویٰ ہوتا ہے۔پھر پوچھا جاتا ہے یہ دہشت گرد کون ہوتے ہیں؟ میں کہتی ہوں انھیں ہم نے ہی پیدا کیا ہے، یہ ہماری خاموشی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ اس ناانصافی کے اندھیرے میں پلتے ہیں جسے ہم قانون کا نام دیتے ہیں۔ یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ناانصافی ہوتی ہے، بھوک ہوتی ہے، جنگ ہوتی ہے۔ یہ کہانی صرف ایک ملک کی نہیں، یہ کہانی ہر اس جگہ کی ہے جہاں طاقتور اور انصاف کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ چکا ہے۔

ایک فلسطینی بچہ اگر پتھر اٹھاتا ہے تو وہ دہشت گر ایک کشمیری نوجوان اگر آزادی کا نعرہ لگاتا ہے تو وہ شدت پسند۔ ایک بلوچ اگر اپنی ماں کے لیے انصاف مانگتا ہے تو وہ ریاست کا دشمن لیکن اگر ایک سپر پاور ہزاروں میل دور جا کر بمباری کرے تو وہ امن قائم کر رہی ہے۔کیا انصاف کا پیمانہ یہی ہے؟ کیا ہم صرف اس لیے خاموش ہیں کہ ہم محفوظ ہیں؟ یا اس لیے کہ ہمارے ضمیر کو نیند پسند ہے؟ ہم نے دہشت گردی کو اتنا سیاسی اتنا معاشی اور اتنا مفاد پرست بنا دیا ہے کہ اب اصل سوال دب چکے ہیں۔ ہم بھول گئے کہ کسی بھی شدت پسندی کے پیچھے فقر ظلم جبر اور محرومی ہوتی ہے۔ ہم نے صرف نتائج پر شور مچایا اسباب پر کبھی نہیں۔

ہم نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ ایک لڑکی اگر مدرسے سے نکل کر بندوق اٹھاتی ہے تو اس پر کیا بیتی؟ ایک لڑکا اگر مزدوری کے بجائے خودکش جیکٹ پہن لیتا ہے تو وہ اس مقام تک کیوں پہنچا؟وہ کیا حالات ہوتے ہیں جب ایک انسان انسان رہنا چھوڑ دیتا ہے؟مجھے اپنا ایک جملہ یاد آ رہا ہے جو برسوں پہلے لکھا تھا’’ ہم نے المیوں کو گنتی میں بدل دیا اور زندگی کو لاش میں۔‘‘ آج بھی وہی گنتی جاری ہے۔ لاشیں گنی جا رہی ہیں مگر درد کوکوئی نہیں تولتا۔ہماری دنیا وہ دنیا ہے جہاں پینٹاگون کا بیان حقیقت بن جاتا ہے، جہاں اسرائیل کی گولی خبر نہیں بنتی لیکن فلسطینی کی چیخ اشتعال کہلاتی ہے۔

ہماری لغت میں دہشت گرد ایک ایسا لفظ ہے جو صرف کمزوروں کے لیے مخصوص ہے۔ طاقتورکا کوئی عمل دہشت گردی نہیں کہلاتا۔ جب نیٹو غلطی سے شادی کی تقریب پر بم گرا دیتی ہے تو وہ کولَیٹرل ڈیمیج کہلاتا ہے۔ جب اسرائیلی ٹینک مسجد کے مینار پرگولہ داغتا ہے تو وہ دفاعی کارروائی کہلاتی ہے لیکن جب ایک بچہ پتھر مار دیتا ہے تو وہ عالمی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

 ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہر دہشت گرد ایک دن معصوم بچہ تھا۔ ہر شدت پسند نے کبھی کسی ماں کی گود میں مسکراہٹ کے ساتھ آنکھ کھولی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ اس مسکراہٹ کو بارود میں بدل بیٹھا؟ اور ہاں کچھ لوگ واقعی درندے ہوتے ہیں لیکن کیا درندے بھی پیدا ہوتے ہیں؟ یا حالات محرومیاں اور ظلم انھیں درندہ بنا دیتے ہیں؟ یہ سوال میں دنیا سے نہیں خود سے کرتی ہوں۔

جب کوئی نوجوان افریقہ کے کسی جنگ زدہ علاقے سے آتا ہے اور یورپ میں نفرت کی دیواروں سے ٹکرا کر پلٹتا ہے جب کوئی میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش کے کیمپوں میں سسکنے پر مجبور ہو جاتا ہے جب کوئی شام میں کیمیائی گیس سے اپنے بچوں کو مرتا دیکھتا ہے اور جب کوئی ہندو، مسلمان، یہودی، عیسائی اپنی شناخت کی بنیاد پر جبر سہتا ہے تو ان سب کے دلوں میں ایک ہی آگ سلگتی ہے دنیا ہمیں سنتی کیوں نہیں؟ ہمیں جینے کیوں نہیں دیتی؟

یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ لوگ صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں اورکچھ لوگ بندوق اٹھا لیتے ہیں۔ تب دنیا انھیں دہشت گرد کہتی ہے اور اپنی جان چھڑا لیتی ہے لیکن میں یہ سوال دوبارہ اٹھاتی ہوں، یہ دہشت گرد کون ہوتے ہیں؟ کیا وہ واقعی دہشت گرد ہوتے ہیں؟ یا ہم سب جو ظلم دیکھتے ہیں اور چپ رہتے ہیں ان کے خاموش خالق ہوتے ہیں؟ دنیا میں کہیں بھی اگر کوئی نوجوان بارود کا راستہ اختیارکرتا ہے تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ اس مقام تک کیسے پہنچا؟ یہ سوال بہت ضروری ہے۔

 اگر ہم نے یہ سوال نہ پوچھا نہ سمجھا تو ہرگلی ہرکوچہ ہر بستی میں ایک اور دہشت گرد جنم لیتا رہے گا ہمارے نظام کی کوکھ سے ہماری خاموشی ہماری بے حسی سے۔ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے اگر یہ خاموشی اور ظلم نہ رکا تو انسانیت کو اس کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتے ہیں ہے تو وہ ہے تو اس ہوتی ہے جاتا ہے یہ سوال جب کوئی ہے اور

پڑھیں:

کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی

کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں نے کسٹمز انفورسمنٹ اسکواڈ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سپاہی جاوید احمد اور اے ایس آئی ساجد الاسلام جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ پاکستان کسٹمز کا ایک سپاہی زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کسٹمز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق دہشت گرد حملے کے بعد سرکاری انفورسمنٹ گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کسٹمز نے شہید سپاہی جاوید احمد اور شہید اے ایس آئی ساجد الاسلام کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اسمگلنگ کے خلاف جنگ اور وطن کی معاشی سرحدوں کے تحفظ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

پاکستان کسٹمز نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت، زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا اور اسمگلنگ، دہشت گردی و جرائم کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، جبکہ پاکستان کسٹمز ملک کی معاشی سرحدوں کے تحفظ اور اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار