بچپن کی یادوں سے جڑی، ہالی ووڈ کی لازوال فلم سیریز ہیری پوٹر ایک نئے روپ میں دوبارہ اسکرین پر آنے کو تیار ہے۔ لیکن اس بار بات فلموں کی نہیں بلکہ ایک مکمل ٹی وی سیریز کی ہورہی ہے، جس میں سب کچھ نیا ہوگا... کہانی وہی پرانی، مگر چہرے ہوں گے نئے!

ایچ بی او نے باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے کہ ہیری پوٹر کی دنیا اب ایک نئی نسل کے اداکاروں کے ساتھ چھوٹی اسکرین پر قدم رکھے گی۔ ٹی وی سیریز میں جادو، مہم جوئی اور دوستی کا وہی پرانا رنگ ہوگا، جو ہیری، ہرمائینی اور رون کے گرد گھومتا ہے، مگر اس بار ان کرداروں میں نظر آئیں گے نوجوان فنکار: ڈومینک میکلافلن بطور ہیری پوٹر، اربیلا اسٹینٹن بطور ہرمائینی گرینجر، اور السٹر اسٹیوٹ بطور رون ویزلی۔

ایچ بی او نے اپنے انسٹاگرام پیج پر تینوں نوآموز اداکاروں کو خاص انداز میں خوش آمدید کہا، اور انہیں جادوئی دنیا کے دروازے کھولنے کی نوید دی۔ پوسٹ میں لکھا گیا: ’’مسٹر پوٹر، مس گرینجر، اور مسٹر ویزلی! ہمیں خوشی ہے کہ آپ کو ہوگورٹس اسکول آف وِچ کرافٹ اینڈ وِزڈرڈری میں داخلہ مل گیا ہے۔‘‘

        View this post on Instagram                      

A post shared by Max (@streamonmax)


اس شاندار موقع کے پیچھے ایک دلچسپ انتخابی عمل کارفرما رہا۔ مشہور میگزین ورائٹی کے مطابق، گزشتہ سال ایچ بی او نے جب اوپن کاسٹنگ کال کا اعلان کیا تھا، تو دنیا بھر سے 30 ہزار سے زائد بچوں نے آڈیشن دیے۔ ان میں سے ان تین خوش نصیبوں کو چُنا گیا جو اب جادو کی اس دنیا کے مرکزی کردار بننے جا رہے ہیں۔

سیریز کی شو رنر فرانسسکا گارڈنر اور ہدایتکار مارک میلڈ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ ہم نے اپنے ہیری، ہرمائینی اور رون کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ ان تینوں میں جو جوہر اور صلاحیت ہے، وہ اسکرین پر دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم اُن ہزاروں بچوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے آڈیشن دیے۔‘‘

سیریز کی خوبصورتی یہ ہے کہ نئی نسل کے ہیروز کے ساتھ ساتھ، معروف اور تجربہ کار اداکار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جان لیتھگو پروفیسر ڈمبلڈور کا کردار نبھائیں گے، جب کہ جینیٹ میکٹیئر پروفیسر مکگونگل، پاپا ایسیڈو پروفیسر اسنیپ، نک فراسٹ ہیگرڈ، لوک تھیلن پروفیسر کوئریل، اور پال وائٹ ہاؤس اسکول کے سخت گیر نگراں فلچ کا روپ دھاریں گے۔

یہ سیریز جے کے رولنگ کے مشہور زمانہ ناولوں پر ہی مبنی ہوگی، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود رولنگ اس پراجیکٹ میں ایگزیکٹو پروڈیوسر کی حیثیت سے شامل ہوں گی۔

نوجوان کاسٹ کے کیریئر کی بات کی جائے تو، السٹر اسٹیوٹ کے لیے یہ پہلا بڑا پروجیکٹ ہے، ڈومینک میکلافلن کامیڈی سیریز Grow میں جلد نظر آئیں گے، جبکہ اربیلا اسٹینٹن نے ویسٹ اینڈ پر میٹیلڈا: دی میوزیکل میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔

اگرچہ ابھی ٹی وی سیریز کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا، لیکن یہ طے ہے کہ یہ پروجیکٹ جلد ہی ایچ بی او میکس پر جادو جگانے آ رہا ہے۔ مداحوں کو اب شدت سے انتظار ہے کہ آیا یہ نئی نسل بھی اُس سحر کو قائم رکھ پائے گی جس نے ہیری پوٹر کو دُنیا بھر کے دلوں میں بسایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی وی سیریز ہیری پوٹر ایچ بی او سیریز کی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا