کرم، روحانی شخصیت سید حسن سید المعروف سید آغا بادشاہ کی 41ویں برسی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
ہزاروں عقیدت مندوں کیساتھ ساتھ سابق وفاقی وزیر اور پیلزپارٹی کے مرکزی رہنماء ساجد حسین طوری، انجمن حسینیہ کے سابق سیکرٹری جلال حسین بنگش، صدر تحریک حسینی، سیاسی اور سماجی شخصیات اور وکلاء برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع کرم کے علاقہ زیڑان میر کلاں میں روحانی پیشوا سید حسن سید المعروف سید آغا بادشاہ کی 41ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، جس میں ہزاروں عقیدت مندوں کیساتھ ساتھ سابق وفاقی وزیر اور پیلزپارٹی کے مرکزی رہنماء ساجد حسین طوری، انجمن حسینیہ کے سابق سیکرٹری جلال حسین بنگش، صدر تحریک حسینی، سیاسی اور سماجی شخصیات اور وکلاء برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی، سید آغا بادشاه کے بھائی اور روحانی شخصیت سید محمد جان، سید میاں اور ڈاکٹر سید اولاد سید میاں نے برسی میں شرکت کرنے والوں اور معزز مہمانوں کا دعاوں کیساتھ شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔