بلوچستان کی صورتحال کئی اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے کالعدم گروہ پوری طاقت کے ساتھ بلوچستان پر وار کر رہے ہیں ۔مغربی محاذ پر فتنہ خوارج متحرک ہے تو بلوچستان میں فتنہ ہندوستان سر اٹھا رہا ہے ۔اس کی تازہ مثال گزشتہ ہفتے سوراب شہر میں دکھائی دی۔ کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے نہتے شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کو ہدف بنایا ۔ بینک، پٹرول پمپ اور سرکاری دفاتر پرحملے کیے گئے ۔تاہم جو نہی قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوئے تو یہ بزدل دہشت گرد دم دبا کر بھاگ گئے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت کے اشارے پر کالعدم دہشت گرد گروہ بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اس طرح کے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ان دہشت گرد گروہوں کی ہندوستان سے وفاداریاں ڈھکی چھپی نہیں۔
معرکہ حق میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں شکست فاش کھانے کے بعد مودی سرکار کے تلملاہٹ ہرگزرتے دن کےساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے ۔بی جے پی کے منتری پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور مسلسل ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں۔ پانچ سے زائد عوامی مقامات پر تقریروں کے دوران نریندر مودی نے پاکستانی ریاست اور عوام کو کھلے الفاظ میں دھمکیاں دی ہیں۔ جو زبان بھارتی وزیراعظم نے استعمال کی وہ ایسے عوامی عہدے پر فائز کسی بھی لیڈر کو زیب نہیں دیتی نو اور دس مئی کے درمیانی شب جب بھارت نے بزدلانہ طریقے سے پاکستان کی ایئر بیسز پر میزائل داغے تو اس رات بھی بھارت کا گودی میڈیا بلوچستان میں دہشت گردی کا پرچار کر رہا تھا۔ یہ مضحکہ خیز دعوے بھی کیے گئے کہ بلوچستان بھارت کے تعاون سے آج پاکستان سے علیحدہ ہو کے ایک ازاد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔ 10 مئی کی صبح کا سورج طلوع ہوا تو بھارت کے بےبنیاد دعوے بے نقاب ہوئے اور بھارتی میڈیا کی جھوٹی رپورٹنگ اس کے ماتھے کا داغ بن گئی۔
یہ بات طے ہے کہ بلوچستان میں متحرک کالعدم بی ایل اے اور اس کے ذیلی گروہ بھارت کے مشن کی تکمیل کرنے کے لیے عوام کو ہدف بنا رہے ہیں ۔سوراب شہر میں حالیہ دہشت گردی کے علاوہ ماضی کے تمام واقعات میں دہشت گردوں نے بلوچ روایات کو پامال کرتے ہوئے نہتے شہریوں ،عورتوں اور بچوں کو ہدف بنایا ،غور کیا جائے تو کا لعدم دہشت گردوں کی یہ بزدلانہ روش بھارتی ریاستی اداروں کی پالیسی کا ہی ایک عکس دکھائی دیتی ہے ۔مسلم دشمنی کی آگ میں سلگتے ہوئے بھارتی ریاستی اہلکار بھی نہتے بچوں، عورتوں اور بزرگ شہریوں کو ہدف بنانے کے عادی ہیں، بلوچستان کی صورتحال پر بھارت کی تلملاہٹ کی خاص وجہ یہ بھی ہے کہ معرکہ حق کے دوران عام بلوچ عوام نے ریاست پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ غیور بلوچ متحد ہو کر افواج پاکستان کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے۔ بلوچستان میں قومی یکجہتی کا یہ مظاہرہ دیکھ کر بھارت میں صف ماتم بچھی ہے۔ اپنی شکست کا داغ دھونے اور تلملاہٹ کو مٹانے کے لیے بھارت کے پروردہ دہشت گرد عام بلوچ عوام کو نشانہ بنا کر یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی ہے تاہم افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فرض شناسی کی بدولت ہر مقام پر بھارت کے پروردہ دہشت گرد منہ کی کھا رہے ہیں۔
سوراب شہر میں جس وقت بزدل دہشت گرد نہتی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے تو بلوچستان کے غیور فرزند ہدایت اللہ بلیدی نے معصوم شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ ہدایت اللہ بلیدی جیسے محب وطن شہری ہی بلوچستان کے اصل نمائندے ہیں۔ دہشت گردوں کے منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔ عوام پہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کالعدم بی ایل اے اور ان جیسے لسانی علیحدگی پسند گروہ دراصل نریندر مودی کے وفادار ہیں۔ بلوچستان کے غیور عوام ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔بلوچ عوام کا مستقبل گجرات کے قصاب نریندر مودی کے دہشت گردوں کے ساتھ نہیں بلکہ جناح کے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا معاملہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔ پاکستان کی عوام پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور اس سکے کو بی جے پی کی ہندوتوا سرکار کی ٹکسال میں ڈھالا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بلوچستان میں پاکستان کی بھارت کے رہے ہیں کے ساتھ کو ہدف
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔