پنجاب ، ایک ماہ کے دوران 39 ہزار 978 ٹریفک حادثات ، 436 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
سٹی 42:سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی زیر صدارت اجلاس میں ریسکیو ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اجلاس میں ماہانہ آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا گیا
ریسکیو ترجمان کے مطابق گزشتہ ماہ 2 لاکھ 11 ہزار 354 ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں،39 ہزار 978 ٹریفک حادثات میں 436 افراد جاں بحق ہوئے،مختلف اضلاع میں ڈوبنے کے واقعات میں 92 افراد لقمہ اجل بنے،گزشتہ ماہ ایک لاکھ 40 ہزار 645 میڈیکل ایمرجنسیز پر فوری رسپانڈ کیا گیا،آتشزدگی کے 4131 واقعات رپورٹ، لاہور 602 واقعات کے ساتھ سر فہرست رہا،اونچائی سے گرنے کے 5526اورکرنٹ لگنے کے1038 کے کیسز رپورٹ ہوئے،مختلف اضلاع میں جرائم سے متعلقہ 4746 کالوں پر ریسکیو سروسز دی گئیں، جھلسنے کے 331اور ڈوبنے کے 140 واقعات میں مدد فراہم کی گئی،
وفاقی حکومت نے عیدالاضحٰی پر عام تعطیلات کا اعلان کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک