نئی دہلی/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی معروف الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا کو بھارت میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے سے روک دیا ہے۔

اس بات کا انکشاف بھارتی وزیر برائے ہیوی انڈسٹریز ایچ ڈی کمار سوامی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیسلا نے بھارت میں صرف شورومز کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ مقامی فیکٹری کا کوئی منصوبہ اب موجود نہیں۔

واضح رہے کہ فروری میں امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایلون مسک بھارت میں ٹیسلا کی فیکٹری لگاتے ہیں تو یہ امریکہ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں واضح کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی کمپنیاں، خصوصاً ٹیسلا اور ایپل، اپنی گاڑیاں اور پرزے امریکہ میں تیار کریں۔

اس سے پہلے بھی ایلون مسک بھارت میں ہائی امپورٹ ڈیوٹیز کو سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔

ٹرمپ نے اسی طرح ایپل کو بھی خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے آئی فونز امریکہ میں تیار نہ کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ٹرمپ کے “امریکہ فرسٹ” معاشی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ امریکی سرمایہ اور مینوفیکچرنگ کو ملک کے اندر ہی رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارت میں

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا