حافظ آباد: مسلح ملزمان کی شوہر کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
حافظ آباد کے علاقے مانگٹ اونچا میں مسلح افراد کی خاتون سے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مدعی مقدمہ کے مطابق ملزمان نے اجتماعی زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی، واقعہ کا مقدمہ 1 ماہ بعد 4 نامزد ملزمان سمیت 8 ملزموں کے خلاف درج کرلیا گیا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے دفتر جاتے تو وہاں تعینات ملزم کا ایک رشتے دار انہیں دھمکاتا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او نے نوٹس لیا اور مقدمہ درج ہوا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے زیادتی کے بعد میاں اور بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا، ملزمان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔