ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات: قاتل کا اعتراف، رینٹ کی گاڑی، تحائف ٹھکرانے کا رنج
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گرفتار ملزم عمر حیات نے اعترافِ جرم کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر حیات رینٹ پر حاصل کی گئی فورچونر گاڑی کے ذریعے فیصل آباد سے اسلام آباد پہنچا، وہ پہلے 29 مئی اور پھر 2 جون کو اسی گاڑی میں آیا، تاہم گاڑی کا کرایہ تک ادا نہ کیا۔
گرفتاری کے وقت ملزم کی جیب سے محض چند سو روپے برآمد ہوئے جبکہ رینٹ اے کار کا مالک بھی پیسے لینے تھانے پہنچ گیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم خود کو لینڈ لارڈ کا بیٹا ظاہر کرتا تھا، حالانکہ اس کا والد ایک ریٹائرڈ گریڈ 16 سرکاری ملازم ہے۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
ملزم نے بیان دیا کہ وہ ثنا یوسف کی سالگرہ پر کیک اور تحائف لے کر آیا تھا، لیکن ملاقات سے انکار پر دل برداشتہ ہو گیا۔ بعدازاں 2 جون کی صبح 5 بجے وہ دوبارہ ثنا کے گھر پہنچا، کئی گھنٹے انتظار کے بعد بھی ملنے سے انکار پر اس نے غصے میں آ کر اسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
واردات کے بعد وہ موقع سے فرار ہوا، پہلے بائیک رائیڈ، پھر ٹیکسی اور آخر کار بس کے ذریعے فیصل آباد واپس پہنچا۔ ادھر اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے پولیس کی استدعا پر ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ منظور کرتے ہوئے اسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ ٹک ٹاکر ثنا یوسف شناخت پریڈ عمر حیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ ٹک ٹاکر ثنا یوسف شناخت پریڈ عمر حیات ٹک ٹاکر ثنا یوسف اسلام آباد عمر حیات
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔