WE News:
2026-06-03@06:38:07 GMT

خطبہ حج دینے والے شیخ صالح بن عبداللہ کون ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

خطبہ حج دینے والے شیخ صالح بن عبداللہ کون ہیں؟

شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن محمد بن حمید الخالدی کا شمار عصرِ حاضر کے ان ممتاز علما میں ہوتا ہے جنہوں نے تعلیم، امامت، فقہ، عدلیہ اور مشاورت جیسے اہم میدانوں میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ 1950 میں سعودی عرب کے شہر بریدہ (قصیم) میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم مکہ مکرمہ میں حاصل کی اور 1967 میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ اُم القریٰ میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے 1975 میں شریعت میں بیچلر، 1976 میں فقہ و اصولِ فقہ میں ماسٹرز، اور 1982 میں اسی شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

علمی و تدریسی خدمات

تعلیم کی تکمیل کے بعد شیخ صالح جامعہ اُم القریٰ میں تدریسی شعبے سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، اور بعد ازاں شعبہ معیشتِ اسلامی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی قابلیت و قیادت کی بنیاد پر انہیں اعلیٰ اسلامی مطالعات کے مرکز کا نگران اور کلیہ الشریعہ میں اعلیٰ تعلیمات کے معاون سربراہ، پھر اسی کلیہ کے ڈین کے منصب پر فائز کیا گیا۔

مسجد الحرام سے وابستگی

شیخ صالح کا مسجد الحرام سے تعلق 1983 میں امامت سے شروع ہوا اور اگلے ہی برس انہیں باضابطہ امام و خطیب مقرر کیا گیا۔ وہ مسجد الحرام میں امامت سنبھالنے والے پہلے عالم ہیں جن کے پاس فقہ میں پی ایچ ڈی کی سند تھی۔ بعد ازاں انہیں حرمین شریفین کے امور کے نائبِ اعلیٰ اور 2001 میں صدرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا گیا۔

مشاورتی و عدالتی خدمات

ان کی مشاورتی خدمات کا آغاز 1994 میں مجلس الشورى (مجلسِ مشاورت) کی رکنیت سے ہوا۔ 2002 میں شاہی فرمان کے تحت وہ مجلس الشورى کے صدر مقرر ہوئے۔ 2009 میں انہیں اعلیٰ مجلسِ عدالت (المجلس الأعلى للقضاء) کا سربراہ مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے شیخ صالح اللحیدان کی جگہ سنبھالی۔ 2012 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اس منصب سے سبکدوشی اختیار کی اور انہیں شاہی دیوان میں وزیرِ مرتبہ مشیر مقرر کیا گیا۔

بین الاقوامی کردار

2007 میں انہیں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے تحت قائم بین الاقوامی اسلامی فقہی مجلس کا صدر مقرر کیا گیا۔ مسجد الحرام میں تدریس و فتویٰ کی ذمہ داریاں بھی شاہی منظوری سے ان کے سپرد کی گئیں۔

علمی خدمات

شیخ صالح نے متعدد علمی کتابیں تصنیف کیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی، اور خطابات و دروس کے ذریعے علمی افق پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کا علمی اسلوب فقہ، شریعت، معاشیات اور سماجی علوم کے امتزاج سے عبارت ہے، جو عصرِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلامی فکر کی رہنمائی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امام کعبہ خطبہ حج شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن محمد بن حمید الخالدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن محمد بن حمید الخالدی مقرر کیا گیا مسجد الحرام انہوں نے شیخ صالح

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز