لاہور بمقابلہ ممبئی؛ کیا چیمپئنز لیگ دوبارہ بحال ہونے جارہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) ورلڈ کلب چیمپئن شپ کے نام سے ایک نیا عالمی ٹورنامنٹ شروع کرنے کیلئے آپشنز تلاش کرنے لگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2009 سے 2014 تک کھیلے گئے ٹی20 چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ میں منعقد ہوا تھا جس میں ٹیسٹ پلیئنگ نیشز کی ڈومیسٹک ٹورنامنٹس جیتنے والی ٹاپ ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔
حالیہ برسوں میں، کئی ممالک نے مختصر فارمیٹ کی کرکٹ لیگز شروع کی ہیں، جن میں انگلینڈ میں دی ہنڈریڈ، جنوبی افریقی ٹی20 لیگ، متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی20 شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: وسیم اکرم کا مجسمہ دیکھ کر میمز کا طوفان اُمڈ آیا
انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی ٹی20 چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کیلئے منصوبہ بندی ابتدائی مراحل میں ہے۔
انگلش بورڈ کے سی ای او رچرڈ گولڈ کا کہنا ہے کہ عالمی ورلڈ کلب چیمپیئن شپ بنانے سے فرنچائز کرکٹ کے پھیلتے ہوئے منظرنامے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: وکٹری پریڈ میں بھگدڑ سے اموات؛ کوہلی کی فرنچائز پر ایف آئی درج
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق رچرڈ گولڈ کا کہنا ہے کہ ٹی20 چیمپئنز لیگ کی طرز پر مینز اور ویمنز ٹورنامنٹ کا انعقاد جلد ہوگا، ورلڈ کلب چیمپیئن شپ کیلئے ہندوستانی فرنچائزز کے تعاون کی ضرورت ہوگی کیونکہ دنیا بھر کی لیگز میں آئی پی ایل فرنچائز کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ چیمپئنز لیگ کا انعقاد مشترکہ طور پر تمام بورڈز نے کیا تھا تاہم کم مقبولیت کے باعث ٹورنامنٹ 2014 کے بعد ختم کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئنز لیگ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔