ہیرو کا کردار ادا کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہمایوں سعید
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
سینئر اداکار ہمایوں سعید نے کہا ہے کہ انہیں اس وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے ہیرو کے کردار ادا کر رہے ہیں اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
ہمایوں سعید نے حال ہی میں ماہرہ خان کے ہمراہ پروگرام ’گپ شپ ود واسع چوہدری‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
ایک سوال کے جواب میں ہمایوں سعید نے کہا کہ انڈسٹری میں سب سے مزاحیہ اداکار احمد علی بٹ ہیں، وہ ان کے ساتھ اس لیے کام کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت مزاحیہ ہیں اور ان کا مزاح انہیں بہت ہنساتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ ہماری فلموں کو بالی وُڈ کی نقل قرار دیتے ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے اور اُن کا یہ تاثر فلم دیکھنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فلموں میں دیگر اداکاروں کو بھی کاسٹ کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنی فلموں میں بہترین اداکاروں کو کاسٹ کیا ہے، جیسے فہد مصطفیٰ اور حمزہ علی عباسی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شاید لوگ اس لیے بھی تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ کئی سالوں سے ہیرو کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں، اسی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سینئر اداکار نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کسی مزاحیہ پروجیکٹ میں کام کرنا ہوا تو وہ واسع چوہدری کے ساتھ کام کریں گے اور اگر کوئی سنجیدہ پروجیکٹ ہوا تو ان کی پہلی ترجیح خلیل الرحمٰن قمر ہوں گے۔
عیدالاضحیٰ سے ایک روز قبل ہمایوں سعید کی فلم ’لو گرو‘ ریلیز ہوئی ہے جو ایک رومانٹک کامیڈی فلم ہے، فلم میں ہمایوں سعید کے ساتھ ماہرہ خان نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اور اس میں ہمایوں سعید نے ایک دل پھینک عاشق کا کردار نبھایا ہے۔
فلمی شائقین ’لو گرو‘ کو اس کی رومانٹک اور مزاحیہ مصالحہ کہانی کے باعث خوب سراہ رہے ہیں اور وہ ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی کیمسٹری سے بھی خوش نظر آرہے ہیں۔
’لو گرو‘ کی ہدایت ندیم بیگ نے دی ہے اور یہ فلم 25 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے، فلم میں متعدد اداکارائیں مہمان کرداروں میں بھی جلوہ گر ہوئی ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ہمایوں سعید ہمایوں سعید نے تنقید کا رہے ہیں ہیں اور کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔