اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بعد حکومت کی اتحادی پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی بجٹ اجلاس کے دوران متعدد حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کا فیصلہ  کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بجٹ کے لئے حکمت عملی مرتب کر لی، پاکستان پیپلزپارٹی کا بجٹ میں چھوٹے کسانوں کی آواز بننے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی بجٹ میں چھوٹے کسانوں کے آواز اٹھائے گی۔

زرائع  نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کا اپنی تقاریر میں عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا جائے گا، پیپلزپارٹی کی جانب سے چھوٹے کسانوں کو سہولیات دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

ذرائع  نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی تمام فصلیں خسارے میں جا رہیں ہیں، حکومت کی جانب سے زراعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے، بجٹ میں پی پی نجکاری پالیسی کی مخالفت کرے گی۔

ذرائع  نے کہا کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کو مستقل کرنے اور یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جائے گا کی جانب سے کا مطالبہ نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف