WE News:
2026-06-03@05:03:18 GMT

حج 2025: مشاعر میٹرو سے 1.87 ملین عازمین نے سفر کیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

حج 2025: مشاعر میٹرو سے 1.87 ملین عازمین نے سفر کیا

سعودی عرب کے مقدس مقامات کے درمیان حاجیوں کی نقل و حرکت کے لیے قائم مشاعر میٹرو ٹرین نے حج 2025 کے دوران 1.87 ملین سے زائد مسافروں کو کامیابی سے منتقل کیا۔

سعودی ریلوے کے مطابق یہ خدمت 7 ذو الحجہ (3 جون) سے لے کر ایامِ تشریق کے اختتام (9 جون) تک جاری رہی، جس کے دوران مجموعی طور پر 2,154 ٹرین سفر مکمل کیے گئے۔

اس سال مشاعر میٹرو نے 5 اہم مراحل میں حاجیوں کی آمد و رفت کو منظم کیا۔ پہلے دن تقریباً 27,000 مسافر ٹرین میں سوار ہوئے۔ اس کے بعد حاجیوں کو منیٰ سے عرفات، پھر عرفات سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ لے جایا گیا، جہاں ہر مرحلے میں لاکھوں افراد نے سفر کیا۔

صرف عرفات سے مزدلفہ کے دوران 294,000 حاجیوں نے میٹرو استعمال کی، جب کہ مزدلفہ سے منیٰ کے سفر میں یہ تعداد 349,000 رہی۔

تشریق کے آخری دن سب سے زیادہ رش دیکھا گیا، جب جمرات اسٹیشن پر 920,000 سے زائد افراد کی آمد و روانگی ریکارڈ کی گئی۔

مشاعر میٹرو میں 17 برقی ٹرینیں شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک کی گنجائش 3,000 مسافروں کی ہے۔ ٹرینوں کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اور وہ منیٰ سے عرفات تک کا فاصلہ تقریباً 20 منٹ میں طے کرتی ہیں۔

یہ نظام 18 کلومیٹر پر مشتمل دوہری پٹریوں پر مشتمل ہے جس پر نو اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جو فی سمت 72,000 افراد فی گھنٹہ کی گنجائش رکھتے ہیں۔

اس ٹرین سروس کی بدولت حاجیوں کو نہ صرف تیزرفتار اور محفوظ سفر کی سہولت ملی بلکہ اس نے تقریباً 50,000 بسوں کی ضرورت کو ختم کر دیا، جس سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوا اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئی۔ سعودی ریلوے کے سی ای او بشار المالک نے اس کامیابی کو انتظامی اداروں کی مربوط منصوبہ بندی اور مشقوں کا نتیجہ قرار دیا، جنہوں نے پہلے سے تیاری کر کے اس بڑے ہجوم کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔

یہ نظام نہ صرف حاجیوں کے لیے ایک اہم سہولت بن چکا ہے بلکہ سعودی عرب کی جانب سے ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی بہتری کی جانب اٹھایا گیا ایک مثبت قدم بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی ریلوے سعودی عرب عرفات مزدلفہ مشاعر میٹرو مقدس مقامات منیٰ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی ریلوے عرفات مزدلفہ مشاعر میٹرو مقدس مقامات مشاعر میٹرو

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شاداب خان نے اچھی اننگ کھیلی ،وہ باؤلر سے اچھے آل راؤنڈر بن گئے ؛ مائیک ہیسن
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے