Daily Ausaf:
2026-07-24@11:46:30 GMT

انسان کی اصل ارتقائی منزل ؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

ایلیس سلور کے آبائی وطن اور شخصی زندگی کے بارے میں انتہائی محدود معلومات ملتی ہیں تاہم یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ امریکہ میں ماہر ماحولیات کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتا ہے ۔ اس نے ماحولیاتی تحفظ ،زمینی ماحول کے مسائل اور انسانی فطرت کے موضوع پر تحقیق کی ہے اور کائناتی علوم ،ارتقا اور مابعد الطبیعات کے بارے بہت حد تک جانکاری رکھنے والا سائنسدان مانا جاتا ہے۔وہ شہرت کے آسمان کا ستارہ اس وقت بنا جب 2023 ء میں اس کی چونکا دینے والی معلومات پر مشتمل اس کی کتاب ” Humans are not from Earth, A Scientific Evalution of the E vidence” منظر عام پر آئی ۔
جس میں اس نے انسانوں کی ابتدا کے بارے میں برطانوی ماہر حیاتیات چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا ’’کہ جاندار آہستہ آہستہ تبدیلیوں کے ذریعے ترقی کرتے ہیں اور تمام جاندار کسی نہ کسی مقام پر ۔مشترکہ آبائو اجداد سے ارتقا پذیر ہوتے ہیں‘‘ کے متبادل نظریہ پیش کیا ۔وہ انسانی جسمانی مسائل اور ان کی ممکنہ کائناتی وجوہات ،ماورائے زمین زندگی اور زمین پر زندگی کی ابتدا کے متبادلنظریات، سائنسی اور مابعد الطبیعاتی نظریات کا امتزاج پیش کرتا ہے ۔وہ سائنسی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ قیاسی مفروضات پر بھی توجہ دلاتا ہے ۔
ایلیس سلور ’’کئی سائنسی اور عمرانی مشاہدات کو بنیاد بنا کر ‘‘ دلیل دیتا ہے کہ انسان زمین کے ماحول سے مکمل طور پرمطابقت نہیں رکھتے ،انسانوں میں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل عام ہیں (زمین کی کشش ثقل کے لحاظ سے ہماری ریڑھ مکمل طور پر ایڈجسٹ نہیں )سورج کی شعائوں سے جلد کا جلد متاثر ہونا جس سے سن برن اور جلدی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،بچوں کی پیدائش کے وقت پیچیدگیاں، نیند اور خوراک کے مسائل،الر جیز وغیرہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ انسان زمین کے قدرتی ماحولیاتی نظامسے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔
ایلیس سلور کا کہنا ہے کہ ’’دیگرجانوروں کو سورج کے جھلسائو،کمر کے درد ،الرجی اور بچوں کی پیدائش میں ایسے مسائل درپیش نہیں ہوتے، وہ بہتر طورپر زمین کے موسمی حالات میں زندہ رہتے ہیں ،جبکہ انسان ہرموسم کے لئے کپڑوں، گھروں اور مشینوں کا محتاج ہے ۔‘‘
’’ایلیس سلور کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’انسان کسی اور سیارے کے باشندے تھے جنہیں زمین پرتجرباتی طور پر چھوڑا گیا۔ممکن ہے کوئی اعلیٰ مخلوق (Extraterrestrial civilization)انسان کو یہاں لے کر آئی ہو‘‘ وہ کہتا ہے کہ ’’ انسان کی اصل ارتقائی منزل کسی اور سیارے پر ہوئی ہے‘‘۔
ایلیس سلور کے مطابق ’’ انسانی ڈی این اے میں کچھ ایسے اجزا اورپیٹرنز پائے جاتے ہیں جو کسی ’’مصنوعی مداخلت‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ارتقائی زنجیرمیں ہومو سیپینز کی اچانک ترقی اور دوسری ہومینائیڈ انواع کس اچانک ختم ہوجانا بھی ایک راز ہے ۔ماحول میں مطابقت کے لئے وٹامن، سپلیمنٹ، ادویات ،علاج اور مشینوں پر انحصار کرنا پڑتاہے ۔موسمیاتی تبدیلیاں انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں ۔زمی۔ کے بعض ماحولیاتی نظام ہمارے لئے غیرموزوں ہیں (جیسے بعض جنگلات صحرا اور گلیشیئرز وغیرہ)‘‘
ایلیس سلور سمجھتا ہے کہ انسان کی تخلیق ، ارتقا اوراس کی زمین پر آمد کا قصہ شاید اتنا سادہ نہیں جتنا ہمیں عام حیاتیاتی نظریات میں بتایا گیا ۔وہ یہ باور کرتا ہے کہ ’’”ہم کائناتی سطح پر کسی بڑے تجربے کا حصہ ہو سکتے ہیں‘‘۔ایلیس سلور کی کتاب جو زیادہ تر متبادل نظریات پر مشتمل ہے نامور سائنسدان اس کے نظریات کو ثبوت کی کمی کے باعث قبول کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تاہم’’پراسراریت پسند‘‘ محققین اور Extraterrestrial life میں دلچسپی رکھنے والوں میں سلور کے نظریات کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔
“Humans are not from Erth” ایسے فکری زاویوں کو پیش کرتی ہے جس پر قاری کے لئے نئی سوچ کے در وا ہوتے ہیں۔سلور کے نظریات روایتی سائنسی عقائد کے لئے چیلنجز کی حیثیت رکھتے ہیں اور پڑھنے والے کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ انسان کی تخلیق ،اس کے مقام اور کائنات میں اس کے کردار پر نئے سرے سے غورو فکر کے دروازے کھولے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کرتے ہیں کہ انسان انسان کی سلور کے کے لئے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی