نیو دہلی:

ایران پر اسرائیلی جارحیت پر بھارتی سرکاری میڈیا "دور درشن" گمراہ کن رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کی تعریفیں کرنے لگا اور اسرائیلی حملے کی جھوٹی ویڈیوز نشر کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی سرکاری چینل دور درشن نے ایران پر اسرائیلی حملے کی جھوٹی ویڈیو نشر کر کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش بے نقاب ہوگئی ہے جہاں دور درشن نے اکتوبر 2024 کی پرانی ویڈیو کو حالیہ واقعہ بنا کر پیش کر دیا۔

دور درشن کی نیوز کاسٹر کا کہنا تھا کہ: "اسرائیلی حملے سے ایران کانپ اٹھا"، بھارتی عوام کے ٹیکس سے چلنے والا میڈیا عالمی سطح پر بھارت کو شرمندہ کر رہا ہے، اسی لیے معروف بھارتی مفکر سندیپ منودھنے نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے پر کڑی تنقید کی۔

سندیب منودھنے کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کا قومی نشریاتی ادارہ ہے جو عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے، ایران بھارت کا دوست ہے اور بھارت وہاں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حساس موقع پر جھوٹی ویڈیو چلانا غیر ذمہ دارانہ صحافت ہے، ایران کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا بھارت کی دوغلی سفارت کاری کو ظاہر کرتا ہے۔

سندیپ منودھنے نے کہا کہ بھارتی سرکاری میڈیا کی حرکت سے خطے میں کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے، صحافتی ذمہ داری سے عاری رپورٹنگ نے بھارت کے ریاستی اداروں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سندیپ منودھنے کے تجزیے نے بھارتی میڈیا کی ساکھ کو جھنجھوڑ دیا ہے کہ بھارتی میڈیا  اسرائیلی بیانیے کو بڑھاوا دے رہا ہے، دور درشن جیسے چینل مودی کی زبان بولتے ہیں، مودی سرکار کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف جھوٹی رپورٹنگ سےسبق سیکھے۔

ایرانی عوام اور ریاست نے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، گودی میڈیا ٹی آر پی کے چکر میں امن کا بڑا دشمن ہے اور فیک نیوز پھیلانا نہ صرف صحافتی جرم ہے بلکہ سفارتی جرم بھی ہے اور عالمی میڈیا بھارتی ریاستی میڈیا کے جھوٹی رپورٹنگ سے واقف ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی سرکاری بھارتی میڈیا میڈیا کی نے بھارت رہا ہے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم