’نہ کھیلیں گے نہ ایونٹ ہونے دیں گے‘، ایشیا کپ ختم کرانے کے لیے بھارتی میڈیا کی چیخ و پکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ایشیا کپ کی باضابطہ تاریخوں کے اعلان کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقے شدید ردعمل کا شکار ہیں، جہاں مودی حکومت پر ایونٹ کے بائیکاٹ کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سابق کرکٹرز، مبصرین اور ارکانِ پارلیمان اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا ایشیا کپ شیڈول پر برہم، پاکستان کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ گیا
ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کی زیرِ صدارت اجلاس میں ٹورنامنٹ کی تفصیلات طے ہونے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کی حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کئی بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستان کو واک اوور دینا مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہوگا، کیونکہ اس صورت میں فتح پاکستان کے حصے میں جائے گی۔
بھارتی میڈیا کا عمومی بیانیہ یہ ہے کہ چونکہ ایشیا کپ بھارت کی میزبانی میں ہو رہا ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ مقابلے میں شرکت ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر بھارت اس ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں بنتا تو ایونٹ ممکن ہی نہیں، اور بھارت کی شمولیت کو پاکستان کے ساتھ کسی طور جوڑنا قابلِ اعتراض ہے۔
دوسری جانب بھارتی پارلیمان میں بھی اس حوالے سے شور اٹھ رہا ہے۔ اپوزیشن ارکان حکومت سے سوال کررہے ہیں کہ جب پاکستان سے تجارت، سفارتی تعلقات اور دیگر معاملات معطل ہیں، تو کرکٹ میں نرمی کیوں برتی جا رہی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا، بھارتی سیاستدان پیچ و تاب کیوں کھا رہے ہیں؟
یاد رہے کہ ایشیا کپ رواں برس 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہو گا، اور یہ ٹورنامنٹ بھارت کی میزبانی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ شیڈول کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کم از کم 2 میچز طے ہیں، جب کہ دونوں ٹیموں کے فائنل میں پہنچنے کی صورت میں تیسرا ٹاکرا بھی ممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایشیا کپ بھارتی میڈیا بھارتی میزبان پاک بھارت تعلقات پاکستان کرکٹ بورڈ چیخ و پکار کرکٹ میں سیاست متحدہ عرب امارات محسن نقوی وی نیوز یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ بھارتی میڈیا بھارتی میزبان پاک بھارت تعلقات پاکستان کرکٹ بورڈ چیخ و پکار کرکٹ میں سیاست متحدہ عرب امارات محسن نقوی وی نیوز یو اے ای بھارتی میڈیا پاکستان کے ایشیا کپ رہا ہے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔