ایران کا 1 گھنٹے میں 10 اسرائیلی جہاز گرانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
الجزیرہ رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس بیس کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ ایک گھنٹے میں ملک کے مختلف علاقوں میں 10 دشمن اسرائیلی فوجی طیارے مار گرائے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک گھنٹے کے اندر اندر ملک کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کے 10 جنگی طیارے مار گرائے۔ الجزیرہ رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس بیس کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ ایک گھنٹے میں ملک کے مختلف علاقوں میں 10 دشمن اسرائیلی فوجی طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی فوج کے فضائی دفاعی یونٹوں نے ہفتے کے روز ایران کے آسمان میں صہیونی حکومت کے F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔ ایرانی حکام نے ان کارروائیوں کو اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ قرار دیا، جبکہ اسرائیل نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایران نے اپنی سرزمین پر 2 اسرائیلی جنگی طیارے مار گرانے اور خاتون پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طیارے مار
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔